تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 254 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 254

ہوا کہ اس دفعہ وہاں جلسہ کرنا ناممکن ہے لیکن جو امید ہمارے ذہن میں تھی اس کے خلاف لوگ بہت زیادہ تعداد میں آئے۔ہمارا خیال تھا کہ اس دفعہ جلسہ سالانہ پر صرف دس ہزار آدمی آ سکیں گے کیونکہ ایک تو موسم اچھا نہیں تھا، گرمی زیادہ تھی۔پھر یہ فصلوں کا وقت تھا اور کٹائیاں ہو رہی تھیں اور زمیندار کٹائی چھوڑ کر جلسہ پر نہیں آسکتے تھے۔پھر بعض لوگ اس لئے بھی نہ آ سکے کہ نئی جگہ ہونے کی وجہ سے وہاں رہائش کا مناسب انتظام نہ تھا۔لیکن تقسیم پرچی سے جو اندازہ لگایا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تین ہزار پانچ سو کے قریب وہ عورتیں تھیں جن کے کھانے کا انتظام لجنہ اماءاللہ کے ماتحت کیا جاتا تھا اور دس ہزار چھ سو کے قریب وہ پرچی تھی جس کا انتظام مردوں کے ذریعہ کیا بھاتا تھا۔اس طرح یہ تعداد پندرہ ہزار کے قریب ہو جاتی ہے۔لیکن ڈیڑھ ہزار کے قریب وہ لوگ تھے جو کھانے کی پرچی میں شمار نہیں ہو سکتے تھے کیونکہ وہ جلسہ سننے کے لئے تو آجاتے تھے مگر کھانے کے وقت واپس پہلے جاتے تھے مثلاً احمد نگر میں چھ سات سو آدمی ٹھہرے ہوئے تھے۔وہ جلسہ سننے کے۔انہ آتے تھے اور پھر چلے جاتے تھے۔کھانا ربوہ میں نہیں کھاتے تھے۔اسی طرح بعض لوگ چنیوٹ میں بھی ٹھہرے ہوئے تھے اس کے علاوہ چنیوٹ میں بھی کافی احمدی بستے ہیں۔کچھ تو ہمارات کے بعد وہاں آکر بس گئے ہیں اور کچھ وہاں کے باشندے ہیں۔بہر حال سات آٹھ سو کے قریب وہ لوگ تھے جو چنیوٹ میں ٹھہرے ہوئے تھے اور جلسہ سننے کے لئے روزانہ ربوہ آجاتے تھے اور چلے بھاتے تھے، وہاں کھانا نہیں کھاتے رھتے۔احمدنگر اور چنیوٹ کے علاوہ بعض دوسری بیگہوں سے بھی لوگ صروف فیلسہ کے وقت آتے تھے جتنی کہ ایک دو سو آدمی لائل پور سے بھی ایسا آتا تھا۔پھر کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے کھانے کا اپنا انتظام کہ ہوا تھا۔مثلا سو کے قریب ہمارے ہی خاندان کے افراد تھے جن کے کھانے کا اپنا انتظام تھا۔اس طرح پندرہ سو سے دو ہزار تک ان لوگوں کی تعداد ہو جاتی تھی جو انگر کے انتظام کے ماتحت کھانا نہیں کھاتے تھے بلکہ ان کا اپنا انتظام تھا۔اس تعداد کو ملا کر سترہ ہزار کے قریب ایسے لوگ تھے ہو اس سال جلسہ میں شامل ہوئے اور ان مخالف حالات کے باوجود شامل ہوئے کہ جن کے ہوتے ہوئے بعض کہتے تھے کہ اس سال وہاں جلسہ سالانہ نہیں ہو سکے گا۔بلکہ بعض مخالف ایسے تھے جنہوں نے ان مخالف حالات کی وجہ سے یہ پیشگوئیاں کرنی شروع کر دی تھیں کہ یہ جلسہ سالانہ اس سال نہیں ہو سکے گا مگر خدا تعالیٰ 1