تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 251 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 251

قادیان ، بہار ، کلکتہ اور حیدر آباد سے بھی دوست تشریف لائے جن میں حضرت سلیٹے عبداللہ الہ دین خاص طور پہ قابل ذکر ہیں۔اسی طرح جرمن کے نو مسلم بھائی عبد الشکور کنترے اور ماریشس کے برادرم احمد ید اللہ صاحب بھی شریک جلسہ ہوئے۔۱۳ار اپریل کی شام سے وار اپریل کی شام تک ۷۷۳۷۱ مہمانوں کے کھانے کا انتظام کیا گیا جس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کا یہ فرمان ایک نئی شان کے ساتھ پورا ہوا کہ الفاظات الموائد كان اعلى وصرت اليوم مطعام الاهالى نه یعنی کسی زمانہ میں دسترخوان کا پس خوردہ میری خوراک تھا مگر آج میں بے شمار گھرانوں کو رات دن کھلانے والا ہوں۔دھوپ کی شدت کی وجہ سے جلسہ گاہ اور سٹیج پر خیمے لگا دیئے گئے تھے۔مردانہ بھلگاہ کی کارروائی ۱۹۸ × ۱۹۸ نٹ کے شامیانے میں ہوئی۔مردانہ جلسہ گاہ کے باہر سٹیج کے قریب ایک طرف ٹوائے احمدیت اور دوسری طرف لوائے پاکستان لہرا رہا تھا۔لوائے احمدیت کی حفاظت کا کام خدام الاحمدیہ کے ایثار پیشہ نوجوانوں کے سپرد تھا۔مردانہ جلسہ گاہ کے قریب بیجا پردوں کے اندر مستورات کی مجلس گاہ تھی۔لاوڈ سپیکر کا نہایت عمدہ انتظام تھا اور حضرت المومنین المصلح الموعود کی تقاریر بیک وقت دونوں جلسہ گاہوں میں سنی بھائی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے لنگر خانہ سے طعام کے انتظام کے علاوہ عارضی طور پر بازار بھی لگایا گیا جس میں موسم کے لحاظ سے مہمانوں کی ضروریات مہیا کرنے کا انتظام رہا لیکن جب متوقع مقدار سے بہت بڑھ کر مسیح موعود کے مہمان نئے مرکز میں پہنچ گئے تو جس طرح لنگر خانہ کا انتظام عالیہ رہ گیا اسی طرح بازار میں بھی اشیائے ضرورت ختم ہو جاتی یہ ہیں۔حکومت کی طرف سے جوانوں کی روانگی کے لئے ایک سپیشل ٹرین کا انتظام بھی کیا گیا تھا، گو وہ اصل وقت سے کئی گھنٹے تاخیر سے گئی۔مہمانوں کی ایک معقول تعداد لاریوں کے ذریعہ بھی آئی اور گئی۔ریلوے اسٹیشن ربوہ پر سٹاف کی کمی کی وجہ سے پورے ٹکٹ نہیں فروخت کر سکے۔اسی طرح یہ شکایت بھی رہی کہ بعض اسٹیشنوں سے ربوہ کا ٹکٹ نہیں دیا گیا۔سے آئینہ کمالات اسلام صفحه ۵۶۲ (طبع اول)