تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 250 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 250

۲۴۰ کہ وہ بیگہ ان کے لئے قطعا نا کافی ثابت ہوئی۔اس کی دیوار توڑ کہ قریب کی دو بیر کیں بھی مستورات کو دے دی گئیں۔ان بیرکوں کے علاوہ احباب ایک معقول تعداد اپنے ساتھ پھولداریوں اور خیموں کی لائے ہوئے تھے جن کے نصب کرنے کے لئے ایک مخصوص جگہ وقف کر دی گئی تھی اور جن سے میدان ربوہ میدانِ عرفات کی یاد دلا رہا تھا۔جلسہ میں کسیر وغیرہ کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے نیچے بچھانے کے لئے کھجور کی بنی ہوئی چٹائیوں کا انتظام کیا گیا تھا۔دادی غیر ذی زرع ربوہ میں ۱۲-۱۷ ہزار نفوس کے لئے پانی کا مہیا کرنا ایک بڑا مشکل مرحلہ تھا۔اس اجتماع میں صرف لنگر خانہ میں پانی کا روزانہ خرج سات ہزار گیلن تھا۔بہر حال خدا تعالیٰ کے فضل سے ان تمام مشکلات پر قابو پا لیا گیا۔اس سلسلہ میں ربوہ میں ۲۲ نلکے لگوائے گئے اور ٹینکروں کے ذریعہ ربوہ سے باہر ساڑھے سات میل کے فاصلہ سے پانی کے منگوانے کا انتظام کیا گیا۔اسی طرح تقریباً ۲۸ ہزار گیلن پانی روزانہ بہتا ہوتا رہا۔گورنمنٹ نے چار ٹینکر مع ضروری سٹان کے یہاں بھجوائے۔پانی کے سٹاک کے لئے چھوٹی چھوٹی اپنی ٹینکیوں کا انتظام تھا اور وہ مناسب جگہوں پر رکھی ہوئی تھیں۔جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے اس شعبہ کے منتظم چودھری عبد الباری صاحب بی۔اے نائب ناظر بیت المال تھے جنہوں نے نہایت تندہی سے اس کام کو سر انجام دیا۔قادیان میں تو ہزاروں ہزار تربیت یافتہ کارکن میسر آجاتے تھے لیکن یہاں مقامی کارکن قریب نہ ہونے کے برابر تھے۔اس لئے بیشتر کارکن خود مہمانوں پر ہی مشتمل تھے۔تعلیم الاسلام ہائی سکول چنیوٹ، بنا معه احمدیه ، مدرسہ احمدیہ کے قابل احترام اساتذہ اور جواں ہمت طلباء نے انتظامات جلسہ میں نمایاں کردار ادا کیا۔جلسہ مستورات کے انتظامات کے سلسلہ میں خاندان حضرت مسیح موعود کی مستورات قابل رشک حد تک سرگرم عمل رہیں۔بہت سی دیگر مہمان خواتین نے بھی ان کا نہایت اخلاص سے ہاتھ بٹایا بخواتین کا انتظام ایسا عمدہ تھا کہ خو دسید نا حضرت مصلح موعود نے اس کی بہت تعریف فرمائی۔جلسہ سالانہ کے دو دن پہلے ہی شمع احمدیت کے پروانوں کی آمد شروع ہو گئی تھی اور خدا تعالے کے فضل سے توقع سے زیادہ تعداد جلسہ میں شامل ہوئی۔باوجودیکہ فصل کی کٹائی کا موسم تھا پھر بھی دیہاتی جماعتوں کے احباب کثرت سے آئے بجلسہ میں نہ صرف پنجاب ہی کے احباب شامل ہوئے بلکہ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے ہر صوبے کے احمدی دوست آئے۔اسی طرح پاکستان علاوہ