تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 249 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 249

۲۳۹ چودھری صلاح الدین صاحب بی اسے اور مولانا ابو العطاء صاحب و چوہدری عبد الرحمن صاحب بی اے بی ٹی تھے۔کھانا وغیرہ لنگر خانہ کے منتظم صوفی غلام محمد صاحب نائب ناظم جلسہ کی نگرانی میں تیار ہوتا تھا۔دن رات چالیس تنور گرم رہے اور ایک ایک وقت میں ساتھ ساتھ دیگیں سالن وغیرہ کی تیار ہوتی رہیں۔معزز مہمانوں کی آمد لمحہ بہ لمحہ بڑھ رہی تھی اور کام کرنے والوں کی تعداد کا ہر اندازہ غلط ہوتا رہا۔اس لئے کارکنوں کی محدود تعداد پہ ہی کام کا بوجھ پڑ رہا تھا۔اس کوشش میں کہ تمام مہمانوں کو کھانا پہنچ بھائے اس محدود عملہ سے زیادہ سے زیادہ کام لینے کی کوشش کی جاتی تھی جس کے نتیجہ میں نان پز اور باورچی بے ہوش ہو ہو جاتے تھے اور دوسرے عملہ کو بھی بعض اوقات ہیں بیس گھنٹے کام کرنا پڑا۔حضرت امیر المومنین کی تحریک کے مطابق بہت سے احباب اپنے ہمراہ گندم آٹا دالیں وغیرہ لے کر آئے تھے بعض دوست تو کئی بوریاں گندم کی رائے بچنا نچہ مہمانوں کی خوراک کے لئے گندم کا کافی ذخیرہ ہو گیا تھا اور باوجود مہمانوں کی کثرت کے گندم کی قطعاً قلت محسوس نہ ہوئی۔ایک پہاڑی کے دامن میں لنگر قائم کیا گیا تھا۔جہاں تمام مہمانوں کے لئے کھانا تیار ہوتا تھا۔اس جگہ ۴۵ تنور لگائے گئے تھے چونکہ لنگر خانہ مہمانوں کی قیام گاہ سے ذرا فاصلے پر تھا اس لئے پانچ ٹک قیامگاہوں تک کھانا لانے کے لئے مخصوص کر دیئے گئے تھے۔جب کھانا قیام گاہوں تک پہنچتا تو اسے جماعت وارد تقسیم کر دیا جاتا۔ہر جماعت کے لئے الگ الگ کارکن مقرر تھے جو کھانا کھلانے کی خدمت سر انجام دیتے۔کارکنان کی کمی ، ان کی نا تجربہ کاری نئی جگہ اور نئے حالات کی وجہ سے انتظامات میں وقتوں کا پیدا ہونا تو لازمی تھا لیکن امید سے بڑھ کر جہان آنے کی وجہ سے مشکلات میں اور اضافہ ہو گیا تھا جس کی وجہ سے کھانا وقت پر نہ ملنے یا نا کافی ملنے کی شکایات بھی پیدا ہو جاتی تھیں لیکن احباب کو چونکہ مشکلات کا علم تھا اس لئے وہ نہایت خندہ پیشانی سے یہ تکلیف برداشت کرتے رہے۔جہانوں کی رہائش کے لئے اشیشن کے دونوں طرف پچاس نئی اور عارضی کچی بیر کیں تعمیر کی گئی تھیں شعبہ تعمیرات کے انچارج مکرم ملک محمد خورشید صاحب تھے جنہوں نے اپنے نائین چو ہدری عبداللطیف صاحب اور راجہ محمد نواز صاحبہ کی امداد سے نہایت تنگ وقت میں یہ کام انجام دیا مستورات کی بیرکوں کے گردا گرد ایک اونچی دیوار کھینچ دی گئی تھی جس سے پردہ کا پورا پورا اہتمام تھا۔خواتین کے لئے وس پر کیس مخصوص کی گئی تھیں۔لیکن مورخہ ۱۴ار شہادت را پرین کی رات کو اتنی تعداد میں مستورات آگئیں