تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 244
ضروری سمجھا کہ آج میں دوستوں کو بتاؤں کہ ہم نے واقعات کو سامنے رکھ کر یہ فیصلہ کیا ہے اور ہمارا قادیان سے باہر ہونا ان حالات میں ہوا ہے۔اگر سقراط کے طریق پر عمل کرتے اور قادیان میں ہی رہتے تو یہ بات غلط ہوتی۔کیو نکہ ہمارے سمالات سقراط کے حالات سے نہیں ملتے تھے۔ہم نے حضرت مسیح علیہ السّلام کی مثال پر عمل کیا کیونکہ آپ کے حالات ہمارے حالات سے ملتے تھے۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی جی نہیں چاہتا تھا کہ آپ مکہ کو چھوڑیں۔لیکن جب آپ نے دیکھا کہ اس کے بغیر اس پیغام کو ہوا آپ دنیا کی طرف لے کر مبعوث ہوئے تھے نہیں پھیلایا جا سکتا تو آپ مکہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غار ثور سے نکلے تو آپ نے آبدیدہ ہو کر اور مکہ کی طرف منہ کر کے فرمایا۔اسے مکہ ! تو مجھے بڑا ہی پیارا تھا اور میں تجھے چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔لیکن افسوس تیرے رہنے والوں نے مجھے یہاں رہنے کی اجازت نہیں دی۔یہ فقرہ بتاتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کو چھوڑنا نہیں چاہتے تھے۔آپ کو مکہ سے محبت تھی۔لیکن اشاعت اسلام چونکہ مقدم تھی اور مکہ میں رہنے سے اس کی اشاعت کا کام باطل ہو جاتا تھا۔اس لئے آپ نے مکہ چھوڑنا قبول کر لیا۔میں نے بھی اسی سنت کے ماتحت قادیان چھوڑا۔اور اب واقعات نے تصدیق کر دی ہے کہ میں اس میں حق بجانب تھا۔عرض دین کی اشاعت پونکہ سب سے اہم تھی اس لئے میں نے قادیان چھوڑنا قبول کر لیا اور پاکستان آگیا۔پہلے یہاں تک بیان فرمانے کے بعد حضور نے اجلاس برخاست کرتے ہوئے فرمایا کہ اس تقریہ کا دوسرا حصہ آپ اگلے دن جلسہ کے آخری اجلاس میں بیان فرمائیں گے چنانچہ نماز مغرب سے کچھ دیر پہلے اجلاس برخاست کر دیا گیا ہے جلسہ کا آخری دن کار شہادت اپریل کو جلسہ کا آخری اور تمیرا دن تھا۔اس روز اجلاس اول میں حکومتقاضی محمد اسلم صاحب ہے ، حکم حکیم فضل الرحمن صاحب ، تمیرے روز کا ابھلاس اول مکرم مولوی ابو العطاء صاحب نے فاضلانہ تقریریں کیں جن کے بعد : / +1909 له الفضل وارو فار جولائی نمایش صفحه ۳- له الفضل ۲۰ شہادت اپریل العرش مکمل تقریر کے لئے ملاحظہ ہو الفضل ۲۸۲۰۳۰ شہادت / اپریل کیش ۲۹ ۳۰ شہادت اپریل و سیم ہجرت مئی ریش :