تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 243 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 243

۲۳۳ کو ترک کر دیتا ہوں جو میرے سپرد ہیں اور ایک جگہ اپنے آپ کو مقید کر لیتا ہوں بعیسا کہ بعد میں قادیان والوں کی حالت ہو گئی تھی۔لیکن اگر میں قادیان سے باہر پھلا پھلتا ہوں تو میں صرف ایک چھوٹے سے وائرہ سے الگ ہوتا ہوں اور ایک وسیع دنیا کو ملانے پر قادر ہو جاتا ہوں۔سقراط نے اپنے شہر کو اس لئے نہیں چھوڑا کہ ان کے مخاطب صرف اس شہر والے تھے۔اور حضرت مسیح علیہ السلام نے فلسطین کو چھوڑا تو اس لئے کہ فلسطین میں ان کے مخاطبوں میں سے صرف دو قبیلے تھے، اور دس قبیلے فلسطین سے باہر تھے۔حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی لوگوں کی خاطر فلسطین کو چھوڑا۔وہ فلسطین میں بسنے والوں سے سینکڑوں گنا زیادہ تھے۔لیکن میں نے جن لوگوں کی خاطر قادیان کو چھوڑا ، قادیان اور اس کی آبادی اس کا ہزارواں حصہ بھی نہیں۔پس یہ صحیح ہے کہ پہلے یہی فیصلہ کیا گیا تھا کہ میں قادیان نہیں چھوڑوں گا۔لیکن جب میں نے دیکھا کہ ہمارے لئے ہجرت مقدر ہے تو میں نے قادیان کو چھوڑ کر یہاں پہلے آنے کا فیصلہ کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ سلوۃ والسّلام کا یہ الہام موجود تھا کہ " داغ ہجرت " اور ادھر میری خوابوں میں بھی یہ بات تھی کہ ہمیں قادیان سے باہر جانا پڑے گا میں نے دیکھا کہ یہ الہام تو موجود ہے مگر ابھی تک ہجرت نہیں ہوئی۔اس لئے یا تو یہ نشین مسیح پر پیشگوئی صادق آئے گی اور یا اسے تھوڑا مانا پڑے گا یہی وہ چیزیں تھیں جن کی وجہ سے نہیں قادیان چھوڑنا ٹا۔پھر یہ فیصلہ میں نے خود نہیں کیا بلکہ جماعت کے دوستوں کی طرف سے مجھے یہ مشورہ دیا گیا کہ نہیں قادیان سے باہر آجاؤں۔ویسے میری ذاتی دلچسپیاں تو قادیان سے ہی وابستہ تھیں۔لیکن میرے سامنے دو چیزیں تھیں۔اول یہ کہ میں قادیان سے باہر چلا جاؤں اور قادیان میں ایک نائب امیر مقرر کر دوں۔دوم یہ کہ میں ان سب کاموں کو ترک کر دوں جو میرے سپرد کئے گئے ہیں اور قادیان میں ایک زیدی کی حیثیت سے بیٹھا ہوں۔اور اس بات کے حق میں کہ ہمیں قادیان میں ہی بیٹھا رہوں ایک رائے بھی نہیں تھی۔ستمبر کو یہ زیملہ ہوا کہ چونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اسلام کی اشاعت کا کام قادیا سے باہر آنے پر ہی ہو سکتہ ہے اس لئے ہم جندباتی چیز کو حقیقت پر قربان کریں گے۔پس میں نے