تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 241
٢٣ ے سے سلامت نکال لیا گیا۔آپ اپنے والیوں سے ملے اور انجیلٹی کے بیان کے مطابق آپ آسمان پر اڑ گئے لیکن دنیوی تاریخ کے مطابق آن صلیبی ، ایران اور افغانستان کے درسته ہوتے موٹے ہندوستان چلے آئے پہلے آپ مدراس گئے پھر آپ گوارا چہار آئے پھر کو نگاہ کی طرف چلے گئے گھر رہاں موسم اچھانہ پاکر آپ تبت کے پہاڑوں کے راستہ ہے کشیر چلے گئے۔گویا ایک طرف یہ مثالی پائی جاتی ہے کہ مامور سی اللہ کے متعلو یہ نصیلہ کیا گیا کہ اسے مار دیا جائے۔اس کے ساتھی اسے نکالنے کے لئے بڑی بڑی رہیں خرچا کرتے ہیں اور پولیس بھی ان کے اس کام کیا بعد دی کرتی ہے مگر وہ انکار کر دیتے ہیں اور اپنے ساتھیوں کے اصرارہ کے بلو سجود یہ کہہ دیتے ہیں کہ وہ یہاں سے کسی اور ملک میں بنے کے لئے تیار نہیں گر حضرت میں علالت لام کو بھی ایک ہی واقعہ پیش ہوتا ہےوہ بھیا مامور من الله اور خود العاملے کے ایک نبی تھے اور جب کہ واقعات بتاتے ہیں کہ سقراط بھی ایک مامور من اللہ تھا۔دونوں ایک بھی تنبیہ سے علم حاصل کرنے والے تھے۔ایک ہی تم کا کام ان کے سپرد تھا۔لیکن ایک کو سب کہا جاتا ہے کہ آپ یہاں سے نکل جائیں تو وہ یہ حجاب دیتا ہے کہ یں یہاں سے نہیں ہٹوں گا اور مدائحا نے کی تعلہ عیہ نہیں ہے کہ میں يبي بارا جاؤں اگر میں یہاں سے نکلتا ہوئی تو خدا تعالے کے منشاء کے خلاف کرنا ہوں لیکن دروس شخصی علی نبی علیہ السلام کو جب مرزا کا حکم مشتایا جاتا ہے تو آپ زمانے ہیں کہ میں کوشش کروں گا کہ یہاں سے نکل جاؤں اور کسی اور جگہ چلا جاؤں۔یہ واقعات اس طرح کیوں ہوئے کیا سقراط جھوٹا تھا یا کیا حضرت مسیح نے ایک خطر ناک غلطی کی اور اپنے آپ کو تقدیر ابھی سے بچانے کی کوشش کی۔حقیقت یہ ہے کہ سقراط اسی شہر کی طرف مبعوث تھا جس کے رہنے والوں نے آپ کو قتل کرنے کا سیعد کیا تھا۔سقراط ان جگہوں کے لئے معبوث نہیں تھا جن کی طرف بھاگے جانے کے لیے اسے اس کے شاگر د مجبور کرتے تھے۔سقراط دوسری قوموں کی طرف مسبوت نہیں تھا لیکن سچے علیہ السلام کو یہ کہا گیا تھا کہ تم مینی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں تک بھی میٹر یہ پیغام پہنچاؤ اور یہ بھیریں ایمان افغانستان امد کش بر میں بھی استی تھیں۔بقراط اگر اپنے شہر کو چھوڑتا تھا تو وہ ایک مکتب اصلہ مدرسہ کو چھوڑتا تھا جس کے لئے اسے مقرر کیا گیا تھا۔مثلاً ایک لوکل سکول میں کسی کو ہیڈ ماسٹر مقرر کیا جاتا ہے تو وہ