تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 240
نہیں پہنچے گا گل پہنچے گا۔میرے خدا نے مجھے کہا ہے کہ تمہارے لئے جندے کے درمان سے پرسوں کھول دیئے جائیں گے یہ اس بلانے کا ثبوت ہے کہ مشینی خدا تعالے سے تائید حاصلی کرنے والا تھا۔اس نے اپنی جنگ سے نکلنے کا نام نہیں کیا، ہماری جماعت میں سے بھی بعض لوگ کہتے ہیں کہ میں قادیان سے باہر کیوں نکلا۔وہ کہتے ہیں کہ کہیں تاریان سے نکلنا نہیں چاہیئے تھا۔اور میں نے خود بھی کہا تھا کہ بھی قادیانی سے نہیں نکلوں گا۔بلکہ ہمیں نے بتایا ہے کہ سقراط جو ایک ماحد من اللہ تھا اس کی زندگی میں بھی ایک واقعہ پیش آیا۔اور اس نے اپنے شہر سے نکلنے سے انکار کر دیائے ؟ • جیب واقعہ سقراط کو لیونان میں پیش آیا ایسا ہی واقعہ مجھے ناریان پیش آیا۔ایک اور واقعہ بھی ہے جو نہیں ایک اور نبی اللہ کے متعلق ملتا ہے حضرت مسیح علیہ السّلام کے متعلق یہ فیصلہ تھا کہ وہ یہود و کی باری ہمت کو دو ماہرہ دنیا میں قائم کریں گے۔مگر آپ پر ایک وقت اب آیا جب سلا ملک آپ کا تین ہو گیا اور ایک کٹی دشمنی ایک خطر ناک صورت اختیار کر گئی۔یہودیوں نے حکومت کے نمائندوں کے پاس آپ کے متعلق نکا میں لکھیں اور آپ کو پکڑوا دیا گیا۔اور آخر حکام کو پیصلہ کر نے پر مجبور کیا گیا کہ آپ باغی ہیں جس طرح یونان کے مجسٹریٹوں نے یہ فصیلہ کیا کر سقراط باسنی ہے اسی طرح فلسطین کے مجسٹر میں نے فیصلہ کیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام باغی ہیں۔دونوں کے متعلق ایک ہی قسم کا الزام تھا اسقراط کے پاس حبیب ان کے بنا کرد گئے احد آپ کو انہوں نے کہا کہ آپ ملک سے نکل جائیں۔تو سقراط نے کہا نہیں نہیں ہیں اس ملک سے باہر نہیں نکل سکتا۔خدا تعالے کی تہ یہ بھی ہے کہ میں یہاں رہوں، لطلب زہر کے ذریعہ مارا جاؤں اگر میں اس ملک سے باہر نکلتا ہوں تو خط تعد لئے کے منشاء کے خلاف کرتا ہوں۔اور حضرت مسیح علیہ السّلام کو جب یہ کہا گیا کہ آپ کو پھانسی پر شکا کر ملا جائے گا تو آپ نے فرمایا کہ میں اس کے لئے تیار نہیں ہوں میں کوئی تدبیر کروں گا تا کسی طرح کہ سنا سے بیچے جاؤں۔امریکہ علیہ السلام نے تدبیر کی اور جیب کہ آپ کو پہلے بتا دیا گیا تھا آپ کو دو تین دن تک قبر میں رکھی گیا اور پھره بان ے دورا نام افضل سوریه ۱۶ جولائی ١٩٧١ ١٣ م