تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 12
امیر فیصل کے دوست تھے۔شام میں اُن کے تعلقات قائم ہوئے تھے۔بعد میں ان کی بادشاہیا کے زمانہ میں عراق میں، اُن سے طے اور انہوں نے ان کی دعوت بھی کی۔میناب داری رشید احمد صاحب چغتائی نے حضرت مصلح موجود شاہ اردن سے احمدی مبلغ منی شہعنہ کا پیغام پہنچانے کے لئے وہ یہ محبت ہی یہی ہے یعنی اللہ یہ ماہ ہجرت کی ملاقات کو شاہ اردن سے اُن کے شاہی محل (قصر رغدان) میں ملاقات کی۔ہمیں بادشاہ معظم آپ کے داخل ہونے پر کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اھلاً و سھلاً و مرحباً کے الفاظ سے خوش آمدید کہا اور مصافحہ کیا جس کے بعد آپ نے بتایا کہ کس طرح انہوں نے گذشتہ عیدالانیہ سے دو یوم قبیل (۲۲ اکتوبر ینہ کو بادشاہ معظم سے بیت المقدس میں حرم شریف مسجد اتعلمی میں مصافحہ کیا جس کے بعد مولوی صاحب کے دل میں ملاقات کی خواہش پیدا ہوئی اور اس کا اظہار کبھی انہوں نے بذریعہ خط حضرت امام جماعت احمدیہ کی خدمت میں کیا۔جس پر حضور نے بادشاہ معظم تا۔اردو میں اپنا ایک پیغام بھجوایا۔مبلغ احمدیت نے ان تعارفی الفاظ کے بعد شاہ اردن کی خدمت میں حضور کے پیغام کا عربی تر جمہ پیش کیا۔شاہ اردن حضور کے پیغام سے بہت متاثر ہوئے اور آپ نے اس کے جواب میں حسب ذیل الفاظ لکھوائے اور اس پر سرخ روشنائی دستخط ثبت فرما دیتے :- الحضرة امام الجماعة الاحمدية ميرزا بشير الدين محمود احمد ! قد قرة على صديقنا رشيد احمد الاحمدی بسالتكم و اقرانی سلامكم في مطلع الجمل اللطيفه المتعلقه في وبوالدكة المرحوم و بأخي رحمه الله فشكرتكم على تلك الذكرى واثنيت عليكم ثناء المسلم للمسلم ، جزيتم خيرا و بورك فيكم فرانا نامل ان تراكم يوما ما إن شاء الله في احسن حالة المسلمين أجمعين۔وإتني هنا سأعمل على مساعدة كل أخ من الهند الباكستان اذا احتاج الى تلك المساعد والسلام عليكم ورحمة الله -