تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 11 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 11

(AMMAN CLUB) میں عیسائیوں کے ایک خصوصی اور اہم اجتماع میں محترم مولوی صاحب موشون کو بھی خطاب کرنے کی دعوت دی گئی جسے آپ نے قبول کیا اور اس میں تقریبہ فرمائی۔اس اجتماع میں بیٹھے بڑے عیسائی پادریوں کے علاوہ حکومت اردن کے متعدد وزراء اور بلاد عربیہ و دیگر ممالک کے سفرامر، پارلیمینٹ کے ایوان بالا اور زیریں کے کئی ایک ممبران و دیگر رؤسا ، سکولوں و کالیوں کے اساتذہ اور وکلار، مدیران جوائد وغیرہ غرض ہر مذہب وطبقہ کی چیدہ شخصیات موجود تھیں۔اس جلسہ کی تفضل روداد اختبار الاردن " کے ایک خاص نمبر میں شائع کی گئی یہیں میں کیتھولک فرقہ کے فلاڈلفیا اور سارے شرق اُردن کے بشپ اور پادریوں وغیرہ مسلم و غیر مسلم جملہ مقررین کے شائع شدہ اسماء میں محترم مولوی صاحب موصوف کا نام بھی درج تھا۔حضرت مسیح موعود کا پیغام والی اردن اور اردن مشن کا ایک نہایت اہم واقعہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا والی اُردن شاہ عبداللہ ابن الحسین کے شاہ عبداللہ ابن الحسین کے نام اہم پیغام اور اُن سے ملاقات ہے۔اس واقعہ کا پس منظر یہ ہے کہ مولوی رشید احمد صاحب پچغتائی کو اردن میں آنے سے پہلے قیام فلسطین کے دوران و مورخہ ۲۲ افاد/ اکتوبر میں شاہ اردن سے مصافحہ کرنے کا موقعہ میستر آیا۔جس کی اطلاع مولوی صاحب موصوف نے حضرت مصلح موعود کی خدمت میں بھی بھیجوائی۔نیز لکھا کہ اب ہے کہ میرا یہ سانحہ مجھے ارون میں پہنچنے اور ان سے دوبارہ ملاقات کا ذریعہ ثابت ہو گا کے حضرت مصلح موعود کے حضور هر ماه نبوت / نومبر یہ مہش کو یہ رپورٹ پیش ہوئی تو حضور نے ارشاد فرمایا :- د اگر ملک عبد اللہ سے ملیں تو انہیں میرا سلام کہیں اور کہیں کہ تئیں ان کے والد مرحوم سے ۱۹۱ء میں مکہ مکرمہ میں حج کے موقعہ پر مل چکا ہوں لمبی گفتگو ایک گھنٹہ تک ہوئی تھی۔اس وقت میں نوجوان تھا۔کوئی تئیس سال کی عمر تھی۔اسی طرح میرے برادر نسبتی اُن کے بھائی ن اخبار الأردن " اعتمان مشرق اردن) خواص نمبر مجربه ۲۷ شعبان ۱۳۶۸ھ مطابق ۲۴ جون ۹۴۹ اردو سے وصل تویہ کا یہ مفہوم ہے جو خود مولوی صاحب کے ذریعہ سے زبانی معلوم ہوا۔(مؤلف) سکه یعنی شریف مکہ۔ان سے ملاقات کا ذکر تاریخ احمدیت جلد چہارم صفحہ ۴۵۵ میں آچکا ہے : کے حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب مراد ہیں جو ان دنوں جھوٹے الزام کے نیچے ہندوستانی حکومت کی قید میں تھے۔