تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 227
۲۱۷ اُس وقت جب کہ حضور پیکور نے خواتین حضرت امیر المومنین کی مردانہ جاسگاه احمدیت سے خطاب فرمایا مردانہ جلسہ میں نہایت پر معارف تقریر گاہ میں اجلاس اول کی کارروائی سوارس بجے تک جار کیا وہ ہی جس میں ملکہ عبدالرحمن حب نادم گھراتی بھی اسے ایل ایل بیت نبی محمد نذیر صاحب پر دنیہ جامعہ احمدیہ اور او البث ارت مولوی عبدالغفور صاحب کی عالمانہ تقریریں ہوئیں۔دوپہر کے وقفہ کے بعد حسب پرو گرام نماز ظہر و عصر جمع کی گئیں اور تمام بجے سہ پہر کے قریب حضرت امیر المومنین جلسہ گاہ میں رونج افروز ہوئے اور حضور پر نور نے تلاوت قرآن کے بعد جو ماسٹر فقیر اللہ صاحب نے کی اپنی پر معارف تقریر شروع فرمائی۔ابتداء میں حضور نے تادیان سے نکلنے کے لپس منظر یہ کسی قدر اختصار کے ساتھ روشنی ڈالتے ہوئے قادیان کی واپسی سے متعلق خدائی وعدوں کا تذکرہ فرمایا اور بتایا کہ دنیا کی کوئی طاقت ہے ہیں ہمارے اصل مرکز قادیان سے دوائی طور پر چھا نہیں رکھ سکتی۔ہم نے خدائی ہاتھ دیکھتے ہیں اور آسمانی فوجوں کو اتر تے دیکھا ہے اگر ساری طاقتیں بھی بل کہ خدائی تقدیر کا مقابلہ کرنا چاہیں تو وہ یقین ناہم رہیں گی۔اور وہ وقت ضرور آئے گا کہ جب قادیان پہلے کی طرح پھر جماعت احمدیہ کا مرکز بنے گا نخواہ صلح کے ذریعہ البیا ظہور میں آئے یا جنگ کے ذریعہ۔بہر حال یہ مندائی تقدیر ہے جو اپنے معین وقت پر ضرور پوری ہو گیت ویان لے گا اور ضرور ملے گا لیکن اس وقت اس چیز کی ضرورت ہے کہ ہم نئے مرکز میں نئی زندگی کا ثبوت دیں۔اور اس تنظیم کو پہلے سے زیادہ شان کے ساتھ قائم کریں جو آج تک سمار اطرہ امتیا نہ رہی ہے۔اس کے بعد قادیان سے ہجرت کے متعلق مزید تفصیلات بیان کرنے سے قبل حضور نے تنظیم سے متعلق بعض نہایت اہم امور کی طرف توجہ دلائی اور جماعت کو زیادہ لمبی استقلال اور قربانی وایثار سے کام لیتے ہوئے فرائض ادا کرنے کی تلقین کی۔چنانچہ فرمایا تبلیغی جماعتوں کی ترقی اور تنظیم میں اچھے لٹر پیر کا بہت دخل ہوتا ہے۔اس سلسلے میں جماعت کی طرف سے انگریزی ترجمہ قرآن شائع کیا گیا تھا لیکنی اجاب نے اس سے خاطر خواہ فائدہ اٹھانے کی طرف بہت کم تو ستر کی ہے حالانکہ غیر ممالک کے باشندوں میں تبلیغ کا اس سے موثر طریقی اور کیا ہو سکتا ہے۔شام - شرق اردن و خیرہ ممالک کے اخبارات نے اکا ترجمہ قرآن مجید پر نہا شاندار ریو لوٹ لے کئے ہیں اور بور میں تشرفتی لے آپ کی مکمل تقریر الفضل - ۱۰ ۱۱ ہجرت سرمئی ۱۳۲۸ بین / ۱۹۴۹ میں بھی رہتی ہے۔