تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 228
۲۱۸ میں اس کی اشاعت سے ایک کھل بھی بچے گئی ہے اور ان میں سے کئی نے جماعت احمدیہ کی اس کاپی ہے کوشش کے خلاف بہت غم و غصہ کا اظہار کیا ہے اس لئے اجاب کو انگریزی ترجمہ قرآن مجید خرید کر خاطر خواہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہیئے۔اسی طرح تفسیر کبیر کی نئی جلدوں کی ان صحت میں پہلے کی نسبت کمی واقع ہوگئی ہے حالانکہ اس کی پہلی جلد بعد میں ایسی نایاب ہوئی کہ خود غیر احمدیوں نے سو سو روپے فی جلد خرید کر اس کا مطالعہ کیا آج کل آخری پارے کی آخری جلد لکھی جا رہی ہے۔دوستوں کو اس کی خریداری میں تامل نہیں ہونا چاہیے۔ایسا نہ ہو کہ بعد میں یہ قابل مہنگا ثابت ہو۔الفضل کے متعلق تحریک کرتے ہوئے حضور نے فرمایا الفضل ایک جماعتی اخبار ہے دونوں کو چاہیے کہ اس کی خریداری بڑھا نہیں جہاں جہاں جماعتیں ہیں وہاں باتا عدہ ایجنسیاں قائم کی جائیں اور اسی طرح اس کی اشاعت کو وسیع کیا جائے۔وقفہ زندگی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا نی زمانہ سلسلہ کی اہم ترین ضروریات میں سے ایک وقفہ زندگی کی تحریک ہے بغیر دقت زندگی کے جماعت کے کام نہیں مل سکتے۔اس لئے نوجوانوں کو چاہیئے کہ وہ خار معتہ السلام کے لئے اپنی زندگیاں وقفہ کریں۔اور اس طرح اسلام کو تمام دنیا میں غالب کہ ننے کے سامان بہم پہنچ نہیں۔اس موقع پر حضور انور نے بیرون ممالک میں دقت زندگی کے فروغ کا بھی ذکر فرمایا۔اور بتایا کہ بیرونی ممالک کے نو مسلم احمدی نوجوانوں میں یہ تحریک بہت دور ریکھ رہی ہے چنانچہ الی میں سے کئی تو جوانوں نے قبول حق کی سعادت حاصل کر نے کے بعد نیاز ند گیاں خدمت اسلام کے لئے وقف کی ہیں۔اس ضمن میں حضور نے بیرونی ممالک میں جماعت احمدی کی تبلیتی جد و جہد میں وسعت کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے فرمایا اگرچہ ہمیں یہاں پر ایک زبر دست ابتداد سے دوچار ہونا پڑا ہے لیکن اللہ تعالے نے نعم البدل کے طور پر بیرونی ممالک میں ہماری تبلیغ کو بہت دین کر دیا ہے اس کے بعد حضور نے ہر ملک میں تبلیغ کی رفتانہ اور اس کے خوش کن نتائج پر علیحدہ علیہ دہ روشنی ڈالی۔اس کے بعد حضور نے تحریک فرمائی کہ احباب جماعت کو آئندہ مرکز میں بابر بار آنے کی کوشش کرنی چاہئیے باہر بار آنے سے نہ صرف یہ کہ مرکز سے ان کا تعلق مضبوط ہوگا بلکہ وہ ترقی کی لکیریں اور دیگر جماعتی سرگرمیوں سے پوری طرح باخبر رہیں گے۔اور ان کا کثرت کے ساتھ یہاں آنا ان