تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 214 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 214

۲۰۷ ربنا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ حضور نے فرمایا : یہاں مُسلمین سے گو حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسمعیل مراد ہیں مگر دُعا مانگتے ہوئے مسلمین سے ہر شخص میاں بیوی بھی مراد لے سکتا ہے۔ربَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ رينَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ رينا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ را وَاجْعَلْنَا مُسلمين للب رتنا وَاجْعَلْنَا مُسلمين لك ربَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسلِمينَ لَكَ وَمِن ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةِ مُسلِمَةً لَكَ اے ہمارے رب اجعل هذا بنا دے اس کو جس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ دُعا کی ہے اس وقت مکہ کوئی شہر نہیں تھا۔وہ صرفت چند جھونپڑیاں تھیں جو ایک بے آب و گیاہ وادی میں نظر آتی تھیں۔پس حضرت ابراہیم علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یہ زمین جو ویران پڑی ہوئی ہے اسے بنا دے ، کیا بنا رے ؟ بلدا۔ایک شہر بنا دے۔عام طور پر جو لوگ عربی نہیں جانتے وہ اس کے معنے یہ کرتے ہیں۔کہ اس شہر کو امن والا بنا دے۔حالانکہ اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہی منشاء ہوتا، تو آپ هذا بك دا کہنے کی بجائے هذا البلد فرماتے۔مگر آپ هذا الب نہیں کہتے بلکہ هذا بدا امنا کہتے ہیں لیس پہ شہر کے بنانے کی دعا ہے۔شہر کو کچھ اور بنانے کی دعا نہیں۔رَبِّ اجْعَل هذا بكدا۔اے میرے اب بنا دے اس ویران زمین کو ایک شہر - ایمنا ، مگر شہروں کے ساتھ فتنہ و فساد کا بھی احتمال ہوتا ہے۔جب لوگ مل کر رہتے ہیں تو لڑائیاں بھی ہوتی ہیں۔جھگڑے بھی ہوتے ہیں۔فسادات بھی ہوتے ہیں۔اور پھر شہروں کو فتح کرنے کے لئے