تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 210 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 210

تمہاری چوکھٹ اچھی نہیں، اسے بدل دو۔حضرت اسماعیل علیہ السلام نے یہ سنتے ہی کہا۔بی بی میری طرف سے تم پہ طلاق۔اس نے کہا۔اس کا کیا مطلب ؟ حضرت اسماعیل نے کہا۔وہ بڑھا میرا باپ تھا جو دو ہزار میل سے پہل کہ آیا مگر تم سے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ تم انہیں کہتیں۔تشریف رکھنے اور آرام کیجئے۔تمہارے اخلاق ایسے نہیں کہ میرے گھر میں رہنے کے قابل سمجھی جا سکو۔چنانچہ حضرت اسماعیل نے اُسے طلاق دے دی اور ایک اور شادی کر لی۔کچھ عرصہ کے بعد پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام آئے۔اتفاقاً اس دن بھی حضرت اسماعیل علیہ السلام باہر تھے۔آپ آئے اور دروازہ کھٹکھٹایا۔اندر سے ایک عورت نے جواب دیا کہ کوئی صاحب ہیں۔بیٹھئے ، تشریف رکھئے۔چنانچہ آپ اندر گئے۔اس عورت نے آپ کی خدمت کی ، پیر ڈھلائے ، کھانے پینے کی چیزیں آپ کے سامنے رکھیں اور کہا مجھے سخت افسوس ہے کہ آپ بہت فاصلہ سے آئے مگر اسماعیل سے نہیں مل سکے۔آپ ٹھہریئے اور ان کا انتظار کیجئے۔اس عرصہ میں مجھ سے جو کچھ ہو سکتا ہے میں آپ کی خدمت کروں گی۔مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام ٹھہر سے نہیں بلکہ واپس پہلے گئے۔معلوم ایسا ہوتا ہے کہ اُن کی قوم کے افراد بہت پھیلے ہوئے تھے اور وہ ان کے ہاں ٹھہر جاتے تھے۔جاتے ہوئے انہوں نے کہا۔اسماعیل آسیب واپس آئے تو اس سے کہنا کہ فلاں طرف سے ایک آدمی آیا تھا اور اُس سے کہنا کہ تمہارے دروازے کی چوکھٹ اب بالکل ٹھیک ہے اس کو قائم رکھنا۔چنانچہ حضرت اسماعیل جب واپس آئے اور انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ کوئی نئی خبر سناؤ تو اس نے کہا۔آج کی نئی خبر یہ ہے کہ ایک بڑھا آیا تھا۔حضرت اسماعیل نے جلدی سے کہا۔پھر ؟ اس نے کہا۔میں نے اُن کو بٹھایا، پاؤں ڈھلائے ، پانی پلایا اور کھانے کے لئے اُن کے سامنے چیزیں رکھیں میں نے اُن سے یہ بھی کہا تھا کہ ٹھہرئیے جب تک اسماعیل واپس نہیں آ جاتے۔مگر انہوں نے کہا کہ میں زیادہ انتظار نہیں کر سکتا۔اس کے بعد وہ چلے گئے۔