تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 208 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 208

کیا خدا پر چھوڑے بھا رہے ہو ؟ تب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنا مونہہ موڑا اور آسمان کی طرف اُنگلی اٹھادی۔جوئے نہیں کیونکہ بجانتے تھے کہ اگر میں بولا تو رقت مجھ پر غالب آجائے گی۔انہوں نے صرف آسمان کی طرف اُنگلی اُٹھا دی۔جس کا مطلب یہ تھا کہ ہاں خدا پر اور خدا تعالیٰ کے کہنے پر میں یہ کام کر رہا ہوں۔احمدہ ایک عورت ہی سہی ، وہ ایک مصری خاتون ہی سہی جس کا ابراہیمی خاندان سے کوئی تعلق نہیں تھا۔مگر وہ ابراہیمی تربیت حاصل کر چکی تھی ، وہ خدا کا نام سُن چکی تھی۔وہ انہی قدرتوں کا مشاہدہ کر چکی تھی۔جب حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے آسمان کی طرف اُنگلی اُٹھا کر بتایا کہ میں محض خدا تعالیٰ کی خاطر اور اسی کے حکم کی تعمیل میں تمہیں یہاں چھوڑے بھا رہا ہوں۔تو ہابز کے فوراً پیچھے ہٹ گئیں اور انہوں نے کہا۔إِذَا لَا يُضَيعُنا تب خدا تعالے ہم کو ضائع نہیں کرے گا۔بے شک جہاں بجھانا ہے پچھلے جاؤ۔چنانچہ حضرت ابراہیم چلے گئے۔اور وہ بے وطن اور مسکین ہاجرہ، اسماعیل کی ماں : پھر اپنے خاوند کا منہ نہیں دیکھ سکی۔حضرت اسماعیل علیہ السلام جب جوان ہوئے تو اس کے بعد پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام آئے۔لیکن اس وقت حضرت ہا جو کہ فوت ہو چکی تھیں۔تب خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت انہوں نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی جس کو ہم بیت اللہ کہتے ہیں اور جس کی طرف مونہہ کر کے نمازیں پڑھتے ہیں۔جب حضرت ابراہیم علیہ السّلام دوبارہ آئے۔اُس وقت بُو ہم قبیلہ کے لوگ وہاں بس چکے تھے ! حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ انہوں نے اپنی بیٹی بھی بیاہ دی تھی۔اب وہ آبادی تھی۔چند نیمے یا چند جھونپڑیاں تھیں جن میں لوگ رہتے تھے معلوم ایسا ہوتا ہے کہ جھونپڑیاں تھیں۔کیونکہ روایات میں ذکر آتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام آئے تو حضرت اسماعیل اس وقت گھر پہ نہیں تھے۔آپ گھر میں یہ پیغام