تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 207
میرے دل میں کتنا درد ہے اور یہ کہ ظاہری طور پر میں جو کچھ سنگدلی اور سختی کو رہا ہوں یہ محض تیرے لئے ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا يَنفى عَلَى اللهِ مِنْ شيء في الأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ - یہ خدائی کلام ہے، ابراہیم کا نہیں۔فرماتا ہے خدا تعالے کو پتہ ہے کہ زمین اور آسمان میں کیا کچھ ہے۔اس کے علم سے کوئی بات مخفی نہیں۔وہ جانتا ہے کہ ابراہیم کا یہ فعل ایک بیج کی طرح زمین میں ڈالا بھا رہا ہے جس سے ایک دن ایک بڑی قوم پیدا ہو گی۔اور وہ جانتا ہے کہ آسمان پر اس بیچے ہونے کے نتیجہ میں کیا عظیم الشان انعام مقدر ہے۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ہاتھ اُٹھا کر یہ دعا کی تو حضرت ہاجر ان کے دل میں شبہ پیدا ہوا کہ یہ جدائی کسی عارضی کام کے لئے معلوم نہیں ہوتی۔بلکہ دائمی جدائی معلوم ہوتی ہے۔وہ دوڑتی ہوئی آپ کے پیچھے گئیں۔اور اُنہوں نے کہا۔ابراہیم ! ابراہیم تم ہمیں یہاں کس لئے چھوڑے بھا ر ہے ہو۔یہ تو عارضی جدائی معلوم نہیں ہوتی۔تم ہمیں جنگل میں اکیلے چھوڑے جا ر ہے ہو۔ابراہیم دیکھو۔تمہارا بیٹا بھو کا مر بھائے گا۔ابراہیم تمہاری بیوی یہاں موجود ہے اور اس کا بھی تم پر حق ہے۔وہ مگر حضرت ابراہیم نے ان کی طرف نہیں دیکھا کیونکہ ان کی آوازہ بھرائی ہوئی تھی۔ڈرتے تھے کہ اگر میں نے جواب دیا تو بیتاب ہو جاؤں گا اور رقت مجھے پر غالب آجائیگی اور یہ اس شان کے خلاف ہو گا جس کا یہ قربانی تقاضا کرتی ہے۔جب حضرت ابراہیم نے کوئی جواب نہ دیا تو پھر ہاجرہ نے کہا۔ابراہیم ؛ ابراہیم تم اپنی بیوی اور بیٹے کو کس لئے ایک ایسے جنگل میں چھوڑے جا رہے ہو جس میں ایک دن بھی رہائش اختیار نہیں کی جا سکتی۔بھیڑئیے آئیں گے اور ہمیں ختم کر دیں گے۔اور اگر بھیرہئیے نہ بھی آئے تب بھی پانی ختم ہو گیا تو ہم کیا کریں گے ، کھجوریں ختم ہو گئیں تو ہم کیا کریں گے۔آخر کیوں تم ہمیں یہاں چھوڑے بجا رہے ہو؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پھر بھی ان کی طرف نہ دیکھا اور زبان سے کوئی جواب نہ دیا۔آخر ہاجر نے آگے بڑھ کر اُن کا دامن پکڑ لیا اور کہا۔بتاؤ تم کس پر ہمیں چھوڑے بھا رہے ہو