تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 203
194 فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِى إِلَيْهِمُ پس اے میرے رب تو لوگوں کے دلوں میں خود ان کی محبت ڈال اور انہیں اس طرف بجھکا دے۔چونکہ یہ خالص تیری عبادت کے لئے وقف ہوں گے اور تیرے دین کی خدمت میں لگے ہوئے ہوں گے اس لئے اے میرے رب! تو لوگوں کے ایک طبقہ کے دلوں کو ان کی طرف جھکا دے اور ان کے دلوں میں ان کی عقیدت اور احترام پیدا کر دے۔تا کہ وہ باہر کی دنیا میں رہ کر کھائیں اور اپنی کمائی کا ایک حصہ ان کے کھانے کے لئے بھیجوا دیا کریں۔اور اسے میرے رب ! جب میں اپنی اولاد کو دین کی خدمت کے لئے یہاں چھوڑے بھا رہا ہوں تو میں یہ نہیں چاہتا کہ مسجد کے ملانوں کی طرح یہ جمعرات کی ردیوں کے محتاج ہوں۔میں اپنی اولاد کو ایک جنگل میں چھوڑ رہا ہوں۔میں اپنے بچتے کو بجو جوان ہے اور اس عمر سے گزر گیا ہے جس میں بچتے بالعموم مرجایا کرتے ہیں ایک ایسی جگہ چھوڑ رہا ہوں جس میں اس کی موت یقینی ہے۔انسان ہونے کے لحاظ سے میں ہم غیب نہیں رکھتا اور میں نہیں جانتا کہ کل تو ان سے کیا سلوک کرے گا۔میرا اندازہ انسانی علم کے لحاظ سے یہی ہے کہ میری بیوی اور بچہ یہاں مر جائیں گے نہیں نے انسان ہوتے ہوئے قربانی کے ہر نقطہ نگاہ میں سے جو سب سے بڑا نقطہ نگاہ تھا اس کو پورا کر دیا ہے۔اب میں تیرا بھی امتحان لینا چاہتا ہوں۔میں نے بندہ ہو کر وہ کام کیا ہے جو قربانی اور ایثار کے لحاظ سے اپنے انتہائی کمال کو پہنچا ہوا ہے۔اب میں میری خدائی کو بھی دیکھنا چاہتا ہوں۔فَاجْعَلْ اَفْتَدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِى الشهييم۔میں نے اپنی بیوی اور بچے کو یہاں لا کر چھوڑا ہے اور یہ سمجھتے ہوئے چھوڑا ہے کہ وہ اس جنگل میں بھوکے اور پیا سے مر جائیں گے۔اب اے خدا ! اگر تو خدا ہے تو یہاں اُن کے لئے لوگوں کو کھینچ لا اور ان کے قلوب اس طرف مائل کر دے۔وَارزُقُهُمْ مِنَ الثَّمَرَاتِ مگر اسے خدا ! میں تجھ سے اُن کے لئے جمعرات کی روٹی نہیں مانگتا۔لیکن تجھ سے اُن کے لئے چاول بھی نہیں مانگتا۔بلکہ نہیں یہ مانگتا ہوں کہ یہ جگہ جہاں گھاس کی ایک پتی بھی