تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 201
۱۹۴ جگہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اُسے اُٹھا لیتے۔اس طرح حضرت ابراہیم علیہ سلام نے اپنی بیوی اور بچے کو ساتھ لے کر فلسطین سے مکہ کا رخ کیا۔میرا اندازہ یہ ہے کہ فلسطین سے مکہ کوئی دو ہزار میل کے قریب ہو گا۔سفر کرتے کرتے وہ خانہ کعبہ میں پہنچے۔اس وقت صرف ایک مشکیزہ پانی کا اور ایک ٹوکری کھجوروں کی ان کے پاس تھی انہوں نے اپنی بیوی اور بچے کو وہاں بٹھایا اور کھجوروں کی ٹوکری اور پانی کا مشکیزہ اُن کے پاس رکھ دیا۔مکہ میں اس وقت کوئی پانی کا چشمہ یا نہر نہیں تھی۔کوئی نالہ بھی پاس سے نہیں گذرتا تھا۔اور زمین کے لحاظ سے کوئی سر سبزی و شادابی اس میں نہیں پائی جاتی تھی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو وہاں رکھا۔اپنی بیوی کو چھوڑا اور کہا۔میں ایک کام کے لئے جا رہا ہوں۔یہ کہہ کر آپ وہاں سے واپس چل پڑے۔لیکن ۸۰ سال کی عمر میں پیدا ہونے والے اکلوتے بچے کی محبت نواہ کوئی نبی بھی ہو ، اس کے دل سے ٹھنڈی نہیں ہو سکتی۔اب ابراہیمؑم نوے سال کی عمر کو پہنچ رہے تھے۔اور اس عمر میں اُن کا اپنے بیٹے اور اس بیٹے کی شریف اور نیک ماں کو چھوڑ کر واپس پہلے جانا کوئی آسان امر نہیں تھا۔پچاس ساٹھ گر گئے تھے کہ اُنہوں نے مڑ کر اپنی بیوی اور بچے کو دیکھا اور اُن کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔پھر پچاس ساٹھ گر گئے تھے کہ محبت نے جوش مارا۔اور انہوں نے پھر ایک بار اُن کو دیکھا۔پھر کچھ دور گئے تو محبت نے پھر خوش مارا اور انہوں نے مڑ کر اُن پر نظر ڈالی وہ اس طرح کرتے چلے گئے یہانتک کہ وہ ایسی جگہ پہنچ گئے جہاں سے اُن کا نظر آنا مشکل ہو گیا۔اُس وقت اُنہوں نے اس طرف مونہہ کیا جدھر اُن کی بیوی بچے تھے جن کو چھوڑ کہ وہ ہمیشہ کے لئے بجھا رہے تھے اور جن کے زندہ رہنے کا بظاہر کوئی امکان نہیں تھا اور اللہ تعالیٰ کے حضور نہایت عاجزانہ طور پر انہوں نے ڈھا کی کہ رَبَّنَا اتى اسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَا بِغَيْرِ ذِي زَرْعٍ اسے ہمارے رب! انہوں نے ربنا کیا ہے رتی نہیں کہا۔کیونکہ اس قربانی میں وہ اپنی بیوی کو بھی شامل کرتے ہیں۔مگر اس کے بعد وہ انی کہتے ہیں انا نہیں کہتے۔کیونکہ یہ فعل