تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 200
۱۹۳ انہیں زمین پہ لٹا دیا اور پھر چھری نکال کر چاہا کہ اس زمانہ کے رسم و رواج کے مطابق اپنے بیٹے کو مخداتعالی کے نام پر ذبح کر دیں۔مگر خدا تعالے تو یہ بتانا چاہتا تھا کہ انسانی قربانی ناحب منہ ہے۔چنانچہ جب انہوں نے چھیڑی نکالی اور ذبح کرنا چاہا تو فرشتہ نازل ہوا اور اس نے خدا تعالے کی طرف سے کہا کریا اِبرَاهِيمُ قَدْ صَدَّ تُتَ الدُّنْيَا - اے ابراہیم ! تم نے عملاً اپنے بچے کو ذبح کرنے کے ارادہ سے لٹا کر اور چھری نکال کر اپنے خواب کو پورا کر دیا ہے۔مگر ہمارا منشاء یہ نہیں تھا کہ تم واقع میں اسے ذبح کر دو بلکہ ہم یہ بتانا چاہتے تھے کہ خواب میں اگر کوئی شخص اپنے بچے کو ذبح کرتے ہوئے دیکھتا ہے تو اس کی تعبیر کچھ اور ہوا کرتی ہے۔ہم انسانی قربانی کو روکتا چاہتے تھے اور اسی لئے ہم نے یہ رویا دکھائی تھی۔اس ذریعہ سے تمہارا ایمان بھی ظاہر ہو گیا اور ہماری غرض بھی پوری ہوگی۔اسے ابراہیم ! آج سے انسانی قربانی کو بند کیا جاتا ہے۔اب آئیندہ کسی انسان کو اس رنگ میں قربان کرنا جائز نہیں۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وقت سے انسانی قربانی جو خود کشی یا دوسرے کو قتل کرنے کے رنگ میں جاری تھی، ٹک گئی۔در حقیقت اس رویا میں یہ بتایا گیا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ایک وادئی غیر ذی زرع میں اپنے بیٹے کو چھوڑ آئیں گے اور اس لئے چھوڑ آئیں گے لِيُقِيمُوا الصلوۃ تاکہ وہ خدا تعالے کی عبادت کو قائم کریں دوسری جگہ یہ ذکر آتا ہے کہ اُن کو بیت اللہ کے پاس اس لئے رکھا گیا تھا ، تاکہ وہ زائرین اور طواف کرنے والوں اور اعتکاف بیٹھنے والوں اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں کے لئے اس کے گھر کو آباد رکھیں۔چنانچہ جب یہ قربانی سہاتی رہی۔تو پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے رڈیا کے ذریعہ بتایا کہ وہ اپنے بیٹے اسماعیل اور اس کی والدہ کو بیت اللہ کی جگہ چھوڑ آئیں۔بخاری میں روایت آتی ہے کہ جب اللہ تعالے کی طرف سے انہیں یہ حکم ہوا تو انہوں نے اپنا بچہ اُٹھا لیا۔یا ممکن ہے انہوں نے کسی سواری کا بھی انتظام کر لیا ہو۔روایت میں آتا ہے کہ بعض جگہ حضرت ہاجرہ بچے کو اُٹھا لیتیں۔اور بعض