تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 199 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 199

۱۹۲ پچھلی منزل کی سیڑھی پر کھڑا تھا اور میں اُوپر تھا۔اس کے ایک دو بھائی جو بڑی عمر کے تھے وہ اس کے پاس کھڑے اُسے ڈرا رہے تھے اور میرے کان میں ان کی آوازیں آ رہی تھیں۔مجھے ان کی باتیں کچھ و پاسپ معلوم ہوئیں اور میں غور سے سننے لگا۔میں نے شنا، ان میں سے ایک نے اُسے کہا۔اگر تم کو رات کے وقت جنگل میں اکیلے چھوڑ آئیں تو کیا تم اس کے لئے تیار ہو گے۔میں نے دیکھا کہ اس بات کے ٹھتے ہی بچے پر دہشت غالب آگئی۔وہ ڈر گیا اور اس نے کہا۔نہیں۔اس کے بعد دوسرے نے کہا۔اگر میں تم کو کہوں کہ تم رات کو اکیلے جنگل میں پہلے جاؤ ہے وہیں رہو تو کیا تم میری بات مانو گے؟ اس نے کہا نہیں۔پھر انہوں نے کسی اور کا نام لے کر کہا کہ اگر وہ کہے تو پھر بھی مانو گے یا نہیں۔اس نے کہا نہیں۔اس کے بعد انہوں نے کسی بعد کا نام لیا کہ اگر وہ ایسا کہے تو کیا پھر بھی تم مانو گے یا نہیں۔اس نے کہا نہیں۔پھر انہوں نے میرا نام لیا اور کہا کہ اگر ابا جان کہیں تو کیا تم مینگل میں چلے جاؤ گے۔اس نے پھر کہا۔نہیں۔پر انہوں نے کہا۔اگر خدا کہے کہ تم جنگی میں چلے جاؤ تو کیا تم جاؤ گے ؟ میں نے دیکھا کہ اس بات کے سُنتے ہی اس کا رنگ زرد ہو گیا۔مگر اس نے کہا۔ہاں بھر میں مان لوں گا۔اب دیکھو پانی چھ سال کا بچہ نہیں جانتا کہ خدا کیا چیز ہے۔وہ صرف موٹی موٹی باتیں جانتا ہے۔خدا تعالیٰ کے احکام کی اہمیت کو نہیں سمجھتا۔مگر چونکہ صبح و شام وہ سنتا رہتا ہے کہ خدا تعالے کی روات بہت بڑی ہے اور اس کے احکام کو نہ ماننا کسی انسان کے لئے بھاگر نہیں ہو سکتا۔اس لئے اور سب کا نام لینے پر اس نے انکار کیا۔یہانتک کہ باپ کا نام لینے پر بھی اس نے یہی کہا کہ میں نہیں بھاؤں گا۔مگر جب خدا تعالے کا نام لیا گیا تو اس نے سمجھا کہ اب انکار نہیں ہو سکتا۔اور اس نے کہا کہ اگر خدا کہے تو پھر میں چلا جاؤں گا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی جب اپنے بیٹے حضرت اسمعیل سے کہا کہ خدا تعالے نے مجھے رویا میں یہ دکھایا ہے کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں۔اب بتا تیری کیا رائے ہے تو حضرت اسماعیل علیہ اسلام نے اس نیک تربیت کی وجہ سے جو انہیں حاصل تھی یہ جواب دیا کہ جب خدا نے ایسا کہا ہے تو پھر بے شک اس پر عمل کریں میں اس کے لئے بالکل تیار ہوں چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے حضرت اسمعیل کو جہ کل میں لے گئے۔ان کی آنکھوں پر پٹی باندھی۔