تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 197
19۔بہت نیک تھا جس کی وفات کا طبعی طور پر مجھے سخت صدمہ ہے مگر میری افسردگی کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارا خاندان بہت بڑا ہے اور اب اس کا تمام بار میرے کمزور کندھوں پر آپڑا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جہا کہ اگر تمہیں معلوم ہوتا کہ تمہارے باپ کا کیا حال ہوا تو تم کبھی افسردہ نہ ہوتے بلکہ خوش ہوتے۔پھر آپ نے فرمایا۔جابر جب عبد اللہ شہید ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں سے کہا۔عبداللہ کی روح کو میرے سامنے لاؤ جب عبد اللہ کی رُوح اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کی گئی تو اللہ تعالیٰ نے تمہارے باپ سے فرمایا کہ عبداللہ ہم تمہارے کارنامے پر اور اسلام کے لئے تم نے ہو قربانی پیش کی ہے اس پر اتنے خوش ہوئے ہیں کہ تم جو کچھ مانگتا چاہتے ہو مانگو۔ہم تمہاری ہر خواہش کو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں۔اس پر عبداللہ نے یہ نہیں کہا کہ انہی جنت کے فلاں مقام پر مجھے رکھا جائے۔اس پر عبد اللہ نے یہ نہیں کہا کہ الہی مجھے ایسی ایسی خوریں دے عبد اللہ نے یہ نہیں کہا کہ الہی مجھے جنت معلمان خدمت کے لئے دے۔عبد اللہ نے یہ نہیں کیا کہ انہی مجھے ایسے ایسے باغات میں بھائیں بلکہ عبداللہ نے اگر کیا تو یہ کہا کہ اے میرے ربت اگر تو مجھے کچھ دینا چاہتاہے تو میری خواہش یہ ہے کہ تو مجھے پھر زندہ کر دے تاکہ میں پھر تیرے دین کی خدمت کرتا ہوا مارا جاؤں۔اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ شہید ہونے والا اپنی مرضی سے مرنا نہیں چاہتا۔وہ خطرے کے مواقع پر اپنی جان ضرور پیش کرتا ہے مگر اس کا دل چاہتا ہے کہ میں زندہ رہ کر ان تمام مشکلات کا مقابلہ کروں جو اسلام یا دین حقہ کو مخالفوں کی طرف سے پیش آنے والی ہیں۔پس میں نے جو اعتراض خود کشی کرنے والوں یا جھوٹے جان دینے والوں پر کیا ہے وہ شہداد پر نہیں پڑتا۔غرض حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ نے چاہا کہ وہ دین حقہ کے لئے ایسے قربانی کرنے والے پیدا کرے جو اپنی جان کو مار کہ اس دنیا کی جد وجہد سے بھاگنا نہیں چاہتے بلکہ دنیا میں زندہ رہ کہ دنیا کی کشمکشوں میں سے گزر کر دنیا کی مصیبتوں کو جھیل کی دنیا کی تکالیف کو برداشت کر کے اپنی مردانگی کا ثبوت دینا چاہتے ہیں اور بتانا چاہتے ہیں کہ خدا تعالے بندہ دنیا کی مصیبتوں اور تکلیفوں۔سے