تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 196 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 196

۱۸۹ ذکر انہی کی پابندی اختیار کرنے سے ، تبلیغ اسلام کو اختیار کرنے سے ، بنی نوع انسان کی تربیت کی ذمہ داری لینے سے ، وہ دلیرانہ اس سمندر میں کودتا ہے۔وہ اپنا خاتمہ موت سے نہیں کرتا بلکہ وہ پنا ایمان اپنی زندگی سے ثابت کر دیتا ہے۔مرنے والے کے متعلق کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اگر وہ زندہ رہتا تو ایماندار رہتا۔مگر میں نے زندہ رہ کر اپنے ایمان کو ثابت کر دیا اور جس نے مدت تک اپنے ایمان کو سلامت سے جیا کہ عملی طور پر اس کے سچا ہونے کا ثبوت دے دیا ، اس کے متعلق دشمن سے دشمن کو بھی اقرار کرنا پڑتا ہے کہ اس نے اپنے عہد کو سچا ثابت کر دیا۔میں نے کہا کہ جو شخص اپنی مرضی سے اپنی زندگی کو ختم کرتا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ میں نے ان لوگوں کو متنے کر دیا ہے جو اپنی مرضی سے اپنی زندگی ختم نہیں کرتے بلکہ خدا تعالے کی مشیت سے ان کی زندگی ختم ہو جاتی ہے یہ وہ لوگ ہیں جن کو شہداء کہتے ہیں۔پس جو دلیل میں نے تلوار یا نیزہ سے اپنے آپ کو ختم کرنے والوں کے خلاون دی ہے وہ شہداء کے خلاف نہیں پڑتی اس لئے کہ شہداء نے خود اپنے آپ کو مار کر زندگی کی بعد و جہد سے آزاد ہونے کی کوشش نہیں کی بلکہ بخدا تعالے کی مشیت نے ان کے زندہ رہنے کی خواہش کے باوجود یہ چاہا کہ ان کی مادی زندگی کے دور کو ختم کر دے۔اور ہرشخص سمجھ سکتا ہے کہ ان دونوں باتوں میں بہت بڑا فرق ہے۔پس ہو دلیل میں نے اپنی زندگی ختم کرنے والوں کے خلاف دی ہے وہ شہداد کے خلاف نہیں پڑتی۔اس لئے کہ وہ خود نہیں کرتے بلکہ ان کو دشمن مارتا ہے۔ورنہ وہ تو یہی چاہتے ہیں کہ دشمن کو مار کہ اپنے ایمانوں کو اور بھی قوی کریں۔اس امر کا ثبوت کہ وہ اپنی زندگی ختم کر کے میدان جد و جہد سے بھاگنا نہیں چاہتے ایک حدیث سے بھی ملتا ہے۔حضرت عبد اللہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک نہایت مقرب صحابی تھے جب شہید ہو گئے تو ان کے بیٹے حضرت ھائی کو ایک دفعہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نهایت افسردہ حالت میں سر جھکانے دیکھا۔آپؐ نے بھائی سے فرمایا۔بجابر ! تمہیں اپنے باپ کی موت کا بہت صدمہ معلوم ہوتا ہے۔اس نے کہا۔ہاں یا رسول اللہ باپ بھی