تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 195
(AA خدا تعالیٰ کے لئے وقف کر دیں۔نماز تو لوگ پڑھتے تھے ، روزہ بھی رکھتے تھے۔ذکر اہی بھی لوگ کرتے تھے کیونکہ ان چیزوں کے بغیر روحانیت زندہ نہیں رہ سکتی۔اگر آدم ایک رومانی انسان تھا تو نوح اور آدم اور اُن کے متبع یقیناً نماز بھی پڑھتے تھے۔ذکر الہی بھی کرتے تھے اور روزہ بھی رکھتے تھے کیونکہ روح بغیر ان چیزوں کے چلا نہیں پاتی۔اور روح کے چیلا پائے بغیر خدا تعالے کا قرب اور اس کا وصال حاصل نہیں ہو سکتا۔مگر اس قربانی اور اُن قربانیوں میں کیا فرق تھا ؟ فرق یہ تھا کہ ہر شخص اپنے اپنے طور پر نمازیں ادا کرتا تھا۔اور کوئی ایسا شخص بھی ہوتا تھا جس کو خدا تعالے بچن لیتا تھا اور اسے مقرر کرتا تھا کہ تم اپنی زندگی میں میری طرف سے مامور کی حیثیت رکھتے ہو۔تم بنی نوع انسان کو مخاطب کرو اور انہیں میری طرف لانے کی کوشش کرو۔یہ لوگ انبیاء علیہم السلام ہوتے تھے مگر ان کے علاوہ کوئی ایسے گروہ نہیں ہوتے تھے جو اپنی زندگیوں کو کسی مخصوص مقام سے وابستہ کر دیں اور دن اور رات ذکر الہی کے شغل کو بھاری رکھیں۔اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ جہاں وہ اس غیر حقیقی قربانی کو منسوخ کر دے جو چھری کے ذریعہ سے بیٹوں کو قتل کر کے ادا کی جاتی تھی وہاں وہ اس حقیقی قربانی کی بنیاد ڈال وسے کہ دنیا کو چھوڑ کر انسان اپنی زندگی محض ہندا تعالیٰ کے لئے وقف کر دیا کہ رہے۔پچھری انسانی زندگی کو ایک منٹ میں ختم کر دیتی ہے۔بالکل ممکن ہے کہ جنہوں نے اپنی زندگی نمد انعالی کے لئے دی اور چھریوں اور نیزوں سے اپنے آپ کو قربان کروا دیا اگر وہ ایک سال اور زندہ رہتے تو مرتد ہو جاتے ایک سال اور زندہ رہتے تو اُن کے ایمان کمزور ہو جاتے۔ایک سال اور زندہ رہتے تو اُن کے اندر عبادت کے لئے وہ جوش و خروش باقی نہ رہتا جو اس وقت انہوں نے دکھایا تھا۔پس چھری کے سے انہوںنے اپنے مشتبہ انجام کو چھپایا ہے حقیقت یہ ہے کہ جو شخص اپنی مرضی سے اپنی زندگی کو قربان کرتا ہے یا جو شخص اپنی مرضی سے اپنی اولاد کو قربان کرتا ہے وہ اس بات اقرار کرتا ہے کہ وہ ڈرتے ہے کہ وہ اور اس کی اولاد لیے امتحانوں میں سے گزرتے ہوئے ناکام نہ رہ جائے۔اور وہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے ہی اپنی زندگی یا اپنی اولاد کی زندگی کو ختم کر دیتا ہے مگر جو شخص ساری عمر قربان ہوتا رہتا ہے ، موت کے ذریعہ نہیں بلکہ ترک منہیات سے،