تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 194
JAZ بنَا إِلَى اسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الهَرَمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلوة بينا لِيُقِيمُوا الصَّلوة ببنا ليُقِيمُوا الصَّلوة رَبَّنا لِيُقِيمُوا الصلوة رَبَّنا لِيُقِيمُوا الصَّلوة فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِى إِلَيْهِمْ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمُ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمُ وارزُقُهُم مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ۔اس کے بعد حضور نے فرمایا :- آج سے قریباً ۴۵ سو سال پہلے اللہ تعالیٰ کے ایک بندے کو حکم ہوا کہ وہ اپنے اکلوتے بیٹے کو خدا تعالیٰ کی راہ میں ذبح کر ڈالے۔یہ رویا اپنے اندر دو حکمتیں رکھتی تھی۔ایک حکمت تو یہ تھی کہ اس وقت سے پہلے انسانی قربانی کو جائز سمجھا جاتا تھا اور خصوصی کے ساتھ لوگ اپنی اولاد کو خداتعالی کو خوش کرنے کے لئے یا اپنے بتوں کو خوش کرنے کیلئے قربان کر دیا کرتے تھے۔اللہ تعالے کی مشید نے فیصلہ کیا کہ اب بنی نوع انسان کو اس مہیب اور بھیانک فعل سے باز رکھنا چاہیے۔کیونکہ انسانی دماغ اب اتنی ترقی کر چکا ہے کہ وہ حقیقت اور مجاز میں فرق کرنے کا اہل ہو گیا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے اپنے اس بندے کو جس کا نام ابراہیم تھا یہ رویا دکھائی۔اس رویا میں جیسا کہ میں نے بتایا ہے ایک حکمت یہ بھی کہ آئیندہ انسانی قربانی کو روک دیا جائے۔اور دوسر کی حکمت یہ تھی کہ خدا تعالے انسان سے حقیقی قربانی کا مطالبہ کرنا چاہتا تھا جو مطالبہ اس سے پہلے انسان سے نہیں ہوا تھا۔بہر حال جب سے انسان اس قابل ہوا کہ اس پر الہام نازل ہو کسی نہ کسی صورت میں لوگ خدا تعالے کی عبادت کیا ہی کرتے تھے۔لیکن ابھی ایسا نہ مانہ انسان پر نہیں آیا تھا کہ کچھ لوگ اپنی زندگیوں کو کلی طور پر