تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 193
TAY اور اگر اس کے دل میں ارادہ اور ہمت ہو تو میرے پیچھے پیچھے چل سکے اور ہر لفظ کو دہرا سکے" ان تمہیدی الفاظ کے بعد حضور نے نہایت رقت آمیز رنگ میں قرآن کریم کی وہ دعائیں بلند آواز سے پڑھنا شروع کیں جو حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کو وادئی ملکہ میں چھوڑتے وقت اللہ تعالیٰ کے حضور کی تھیں۔جماعت کے تمام دوست کیا مرد اور کیا عورتیں سب کے سب حضور کے ساتھ ساتھ ان دعاؤں کو دہراتے چلے گئے۔یہ دعائیں جس طرح بار بار حضور نے پڑھیں اسی طرح ذیل میں درج کی بھاتی ہیں۔حضور نے ابراہیمی دعاوی کو منتخب کرتے ہوئے اس موقع پر نہایت درد کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے عرض کیا :- رَبَّنَا إِنِ اسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ رَبَّنَا اتى اسْكَنْتُ مِن ذُرِّيَّتِي بِوَا بِغَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنا لِيُقِيمُوا الصَّلوة ربنا ليُقِيمُوا الصَّلوة للعمل التدة من الناس نمو اليْهِمُ والزُتْهُم مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ۔رَبَّنَا إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا تُخْفِي وَمَا نُعْلِنُ رَبَّنَا إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا تُغْنِي وَمَا نُعْلِنُ وَمَا يخفى عَلَى اللهِ مِنْ شَيْء فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ اس کے بعد دوبارہ حضور نے انہی دعاؤں کو اس رنگ میں دہرایا۔رَبَّنَا إِلَى اسْكُنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي ربَّنَا إِلَى اسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بوادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلاةَ فَاجْعَلُ افتُدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارزُقُهُمْ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ۔رَبَّنَا إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا تُخْفِي وَمَا نُحْلِنُ ربَّنَا إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا خُلِى وَمَا نُعْلِنُ