تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 192 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 192

IAA دفعہ دہراؤں گا۔پڑھے ہوئے، اور ان پڑھ جس قدر دوست یہاں موجود ہیں وہ بھی میرا ہاتھ دے سکتے ہیں اور انہیں ساتھ دینا چاہیے یعنی جب میں وہ آیتیں پڑھوں تو جوعت کے دوست کیا مرد اور کیا عورتیں ساتھ ساتھ ان آیتوں کو دہراتے پچھلے جائیں۔ر اس موقعہ پر حضور نے ہدایت فرمائی کہ کوئی کا رکن بجا کہ عورتوں کی جلسہ گاہ سے پوچھ لے کہ ان کو آواز آرہی ہے یا نہیں تا کہ وہ محروم نہ رہ جائیں ) صورتوں میں سے جو عورتیں ایسی نہیں کہ ان پر ان ایام میں الیہ ، حالت ہے کہ وہ بلند آواز سے قرآن کریم نہیں پڑھ سکتیں، اُن کو چاہیے کہ وہ دل میں ان آیتوں کو دہراتی ھیلی جائیں۔اور جین عدی توان کے لئے ان ایام میں قرآن کریم پڑھنا جائز ہے وہ زبان سے بھی ان آیتوں کو دہرائیں هر حال جن عورتوں کے لئے ان ایام میں زبان سے پڑھنا جائز نہیں وہ زبان سے پڑھنے کی بجائے صرف دل میں ان آیتوں کو دہراتی رہیں۔کیونکہ شہ بعیت نے اپنے حکم کے مطابق جہاں مخصوص ایام میں، تلاوت قرآن کریم سے عورتوں کو روکا ہے، وہاں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ وہ دن میں بھی ایسے خیالات نہ لائیں یا دل میں بھی نہ برائیوں، بلکہ عرف اتنا حکم ہے کہ زبان سے نہ وہ ہرائیں۔بلکہ بعض فقہاء کے نزدیک صرف قرآن کریم کو ہاتھ لگانا منع۔سے مگر احتیاط یہی ہے کہ کثرت سے جبر بات پر مسلمانوں کا عمل رہا ہے اسی پر عمل کیا جائے۔پس بجائے زبان سے دہرانے کے وہ دل میں ان آیتوں کو دہراتی میلی جائیں۔میں نے بتایا ہے کہ میں کئی دفعہ آیات کو پڑھوں گا۔ممکن ہے میں پہلی دفعہ جلدی پڑھوں ممکدان کا مفہوم انسانی سے سمجھ میں آسکے۔اگر لفظوں کے درمیان فاصلہ زیادہ ہو اور انسان مانمون سے پہلے۔واقع نہ ہو تو آہستگی سے پڑھنے کے نتیجہ میں مضمون بجائے اچھا سمجھ آنے کے کم سمجھ آتا ہے۔مگر جو شخص اس کے ترجمہ سے واقف ہوتا اور مضمون سے آگاہ ہوتا ہے اس کا دلی جوش اور بو بہ بعض دفعہ اسے جلدی پڑھنے پر مجبور کرتا ہے۔اس لئے پہلی دفعہ کی تابوت میں اپنے لئے مخصوص کروں گا۔یعنی میں اس طرح پڑھوں گا جس طرح میرا اپنا دل چاہتا ہے۔اس کے بعد تب میں تلاوت کودں گا تو اس امر کو مدنظر رکھوں گا کہ پڑھا ہوا اور ان پڑھ ، عالم اور تباہل ، بڑی عمر کا اور چھوٹی عمر کا ہر شخص لفظ لفظ اگر وہ چاہے