تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 187
JAI میں ہے اور کوئی احمد نگر میں ہے۔اس کے علاوہ ہمارے دفاتر اب دو ملکوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔گویا ہمارے دفتر کا کام پہلے کی نسبت بہت بڑھ گیا ہے۔بلکہ اب تو ایک مستقل دفتر ظفات مرکز کے لئے ہی قائم ہو چکا ہے اور اس کا کام یہی ہے کہ قادیان کے متعلق جو مشکلات پیدا ہوں اُن کا ازالہ کرے۔گورنمنٹ سے خط و کتابت کرے۔بین اعتوں کو قادیان کے حالات سے باخبر رکھے اور ہر قسم کا ضروری ریکارڈ جمع کرتا رہے۔پھر چونکہ قادیان کی صدر امین بھی قائم ہے۔اس کے دفا تم الگ ہیں۔مگر ان دفاتر کا صرف سرچ کے ساتھ تعلق ہے۔ربوہ میں مکانات کی تعمیر یا صدر انجین احمدیہ پاکستان کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں۔اسی طرح تحریک جدید کے بہت سے کارکنان ہیں۔ان سب کارکنوں کو اگر ملایا جائے تو ہزار بارہ سو تک ان کی تعداد پہنچ جاتی ہے اور ان کی رہائش کے لئے کم سے کم اڑھائی تین سو مکانات کی ضرورت ہے۔اب تو ہمارے تین مکان لاہور میں ہیں۔کالے بھی نہیں ہے۔کچھ مکانات چنیوٹ میں ہیں۔۴۰-۵۰ مکانات احمد نگر میں ہیں اور کچھ حصہ کا رکنوں کا خیموں میں رہتا ہے۔جب دفاتہ اکٹھے ہوں گے تو ہمیں ضرورت ہوگی کہ ان کے لئے اڑھائی سو خیمہ لگوایا ہجائے۔اور اگر اڑھائی سونیمہ لگوا دیا جائے تب بھی اول تو خیموں میں وہ آرام میستر نہیں آسکتا جو مکانات میں ہوتا ہے۔دوسرے اگر اڑھائی سو خیمہ خریدا جائے تو سوا لاکھ روپیہ میں آتا ہے۔ان خیموں کو اگر دوبارہ مکانات بننے پہ بیچ بھی زیا جائے تب بھی ساٹھ ستر ہزار کا نقصان نہیں برداشت کرنا پڑے گا۔اور اگر اڑھائی سوتیمیہ کرایہ پر لیا جائے تو اٹھارہ روپیہ ماہوار پر ایک خیمہ ملتا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ ۴۵۰۰ روپیہ ماہوار شتر که اید پر صرف ہوگا۔اگر یہ خیمے ایک سال تک رکھے جائیں جب تک ہماری عمارتیں مکمل نہ ہو جائیں تو ۵۴ ہزار روپیہ سالانہ صرف کرایہ پر خرچ آجائے گا۔اور پھر ان ٹیموں کے پہنچانے اور واپس لانے میں جو خرچ ہو گا وہ بھی چار چار پانچ پانچ روپے فی خیمہ سے کم نہیں ہو سکتا۔ان امور کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے یہ سمجھا کہ اگر ہم ان عارضی عمارتوں کو جو جبلہ سر سالانہ کے لیئے بنائی جارہی ہیں بعد میں توڑیں نہیں بلکہ اسی طرح رہنے دیں تو ہمارا بیس ہزار روپیہ جو ان عمارتوں پر تخریج ہو گا۔اس میں سے دس ہزار روپیہ تو یقیناً جلسہ سالانہ کے لئے خریج ہونا تھا ، باقی دس ہزار روپیہ جو لکڑی اور اینٹوں کی صورت میں ہمیں واپس مل سکتا تھا وہ ان عمارتوں کو سال بھر قائم رکھ