تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 175
149 قدرتی طور پر مشورے اور امداد کا ہر متلاشی مسلمان سب سے پہلے اپنی قدیم ترین مسجد کا رخ کرتا ہے۔اُن کے امام بھی مقتدیوں کی فلاح وبہبود کے لئے ہر وقت کوشاں رہتے ہیں بہت سی مشکلات کی وجہ صرف یہ ہوتی ہے کہ نو وارد مسلمان بر من زبان سے نا واقف ہوتا ہے یہ مشکل امام مسجد کی مدد سے حل ہو جاتی ہے۔مثلا فرانکفورٹ کی ڈور مسجد کے امام مسعود احمد پانچ زبانیں جانتے ہیں اور وہ فرانکفورٹ کے قرب و جوار میں لینے والے مسلمانوں سے اُن کی علاقائی زبانوں میں بات چیت کر لیتے ہیں۔ہر ہفتے فرانکفورٹ اور اس کے قرب وجوار کی بستیوں سے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ان کی چھوٹی سی مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے پہنچتی ہے بہت سے مسلمانوں کے لئے خواہ وہ مراقش کے ہوں یا انڈونیشیا کے ، مشرقی افریقہ کے ہوں یا مغربی افریقہ کے مسعود احمد مشفق والد ، ہمدرد ، بہی خواہ ، ترجمان اور پیرو مرشد سبھی کچھ ثابت ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ فرانکفورٹ کی نور مسجد کے اس نو عمر امام کو اس بات کی بھی خوشی ہے کہ جرمن لوگوں میں اسلامی ثقافت و نظریات سے دلچسپی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔بہت ممکن ہے کہ وفاقی جمہوریہ جرمنی کے صدر ڈاکٹر باٹنے من سے ان کی ملاقات نے بھی مسعود احمد صاحب کے ان خیالات کو تقویت پہنچائی ہو“ لے فصل پنیر مسقط میشن کی بنیاد عمان تو یہ عرب کی ایک مسلم ریاست ہے جو قطر اور حضرموت کے درمیان عرب کے مشرقی ساحل پر واقع ہے مسقط اس ریاست کا دارالسلطنت اور خلیج فارس کی بڑی اہم بندرگاہ ہے۔یہاں مسلمانوں کی تعلیمی اور مذہبی حالت بہت ناگفتہ یہ ہے اور ان پہ ایک مجمود طاری ہے مگر عیسائیوں نے ے " نوائے وقت " لاہور ۲۹ جنوری ۱۹۷ صفحه ۵۱۰