تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 174 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 174

14A ممالک کے سفارت خانوں کے مسلمان ملازم جو منی میں موجود ہیں۔ان میں مسلم ممالک کے طالب علم اور تا ہو بھی شامل ہیں اور مسلمانوں کا یہ گروپ سب سے بڑا ہے۔اگرچہ ہمبرگ اور آئش میں مسلمانوں نے ایک ایک مسجد تعمیر کر لی ہے مگر سفارتی نمائندوں ، طالب علموں اور تاجروں کو کسی منظم اسلامی تحریک کا حصہ نہیں کہا جا سکتا۔ان کے جو باہمی اجلاس ہوتے رہتے ہیں ان کا مقصد اسلام کی تبلیغ کرنا نہیں ہے مگر مذہبی، ثقافتی اور قومی روایات کو بر قرار رکھتا ہے۔دوسرا گروپ مہاجرین کا ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد مغربی جرمنی میں آباد ہو گئے ہیں۔اور اب بظاہر مغربی جرمنی ہی ان کا وطن ہے۔ان مسلمانوں کا ثقافتی مرکز میونخ ہے۔میونخ میں مسجد کی تعمیر کے لئے وفاقی حکومت اور باویرید کی حکومت ان مسلمانوں کی امداد کر رہی ہے۔ان دونوں گروپوں میں ایک چیز مشترک ہے۔وہ یہ کہ پہلے گروپ کے مسلمان تو کچھ عرصہ کے لئے یہاں آتے ہیں۔انہیں اپنی واپسی کا یقین ہوتا ہے۔جبکہ دوسرے گروپ کے مسلمان اگر چہ اتنی دیر سے یہاں آباد ہیں مگر وہ اب بھی سوچتے رہتے ہیں کہ ایک روز وہ اپنے اپنے وطن کو واپس لوٹ جائیں گے۔میرا گروپ جو اسلام کی تبلیغ کے لئے یہاں آیا ہے اس گروپ کا تعلق احمدیہ جماعت سے ہے۔اور یہ گروپ گذشتہ دس سال سے مغربی جرمنی میں سرگرم کا رہ ہے۔“ حکومت مغربی جرمنی کی طرف سے شائع ہونے والے ایک ہفتہ وار عربی خبر نامہ الرسالة نے ہم فروری ر کو لکھا:۔" اس ضمن میں یہاں ایک اہم اور تعجب خیز حقیقت کی طرف اشارہ کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ کہ جو منی اور باقی مغربی یورپ کے ممالک میں دعوت اسلام اور دیگر اسلامی کام حضرت اور صرف جماعت احمدیہ کی مساعی کے مرہون منت ہیں اور صرف یہی وہ لوگ ہیں جو اسلام کی دعوت تبلیغ کا بیڑا اُٹھائے ہوئے ہیں۔اسی طرح جماعت احمدیہ ہی وہ پہلی تنظیم ہے جس نے دوسری جنگ عظیم کے بعد قرآن کریم کا جو من ترجمہ اصل عربی متن کے ساتھ شائع کیا ہے" سے شہ میں مغربی پاکستان کے تمام اہم اخبارات نے جو منی کی مساعد پر ایک مضمون شائع کیا جئیں میں مقالہ نگار نے فرانکفورٹ اور ہمیر گئی اسماریہ مساعد کا با تصویر تذکرہ کرتے ہوئے لکھا :- رسالہ به له تحریک بدید که بوه بابت ماه صلاح جنوری ارامش صفحه ۵۸ - ۱۵۹