تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 173
146 مشن یہ سب چیزیں ہمارے لئے ایک چیلینج کی حیثیت رکھتی ہیں۔ان حالات میں ہمیں اس امر پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ ہم عیسائیوں میں وہی بعد یہ وہی سچائی وہی روح القدس موجود ہے جو ہمارے مسیح کی ابتدائی جماعت میں کار فرما تھا۔اگر نہیں تو پھر ہم نے عیسائیت کے مقصد اور اس کی عرض و غایت کو فراموش کر دیا ہے۔بیشک ہمارے گرجے وسیع پیمانے پر پھیلے ہوئے ہیں اور بہاری جماعتیں اور تنظیمیں جگہ جگہ موجود ہیں لیکن سچائی کی روح کے بغیر ہمارا مذہب ، ہمارے عقائدہ اور ہماری تنظیمیں سراسر غیر مفید اور بلییود ہیں اور ایک بڑ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں۔ہر چند کہ اس اسلامی جماعت کے مشن عیسائیت کے لئے خطرناک نہیں کہلا سکتے لیکن ہمیں اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہئیے کہ یہ جماعت ایشیا ، امریکہ، یورپ اور افریقہ میں جارحانہ طور پر عیسائیت پر حملہ آور ہے۔اس کے پیش کردہ دلائل ٹھوس مضبوط اور قوی ہیں۔ان حالات میں جب ہم ان نتائج پر غور کرتے ہیں جو اس تبلیغی جد و جہد کے نکل سکتے ہیں تو ہم پر کیپکسی طاری ہو جاتی ہے۔کیا ہم عیسائیوں میں وہ روحانی طاقت موجود ہے جس سے ہم اس جارحانہ تحریک کا مقابلہ کر سکیں۔کیا ہم عیسائیوں پر یہ فرض عائد نہیں ہوتا کہ ہم اسلام کے اس چیلینج کا اپنے صحیح عقائدہ دکھا اور روح القدس کی برکت سے جواب دینے کے قابل ہو سکیں نے - پاکستان کے روز نامہ نوائے وقت لاہور مورخہ ۱۸ دسمبر ست اندر کی اشاعت خاص د علمی ادبی ایڈیشن) میں برمنی میں مسلمانوں کی سرگرمیاں“ کے زیر عنوان ایک فوٹ شائع ہوا۔اس نوٹ کا متعلقہ حصہ مندرجہ ذیل ہے :- " مغربی جرمنی کے ایک کثیر الاشاعت پر پچھے میں محمد امین عبد اللہ کا ایک مضمون چھپا تھا جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ بون کے لاٹ پادری کے اخبارمیں کچھ عرصہ پیشتر بتایا گیا تھا کہ آٹھ توجد من مسلمان ہو گئے ہیں۔اتنی بڑی تعداد میں جرمنوں کے مسلمان ہونے سے یہ خیال پیدا ہوا کہ آیا جرمنی میں آباد مسلمانوں کی کوئی منظم تحریک موجود ہے۔اس سوال کا جواب مغربی جرمنی کی حکومت کے بلیٹن میں یوں دیا گیا ہے۔مغربی جرمنی میں اسلام کی تین طریقے سے نمائندگی ہوتی ہے۔پہلا یہ کہ مغربی جرمنی میں مسلم • الفضل از شهادت / اپریل الله مش صفحه 1