تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 165
۱۵۹ نے ہمارے خط کا ذکر تک نہیں کیا۔اتنے میں وہ خیمہ کے اندر داخل ہو گئے مبلغ جرمنی نے سوچا کہ اب مزید بات چیت مناسب نہیں لیکن ایک عرب احمدی دوست ابراہیم عودہ تقریر کے بعد ڈاکٹر ، حب کے پاس چلے گئے۔ڈاکٹر صاحب نے مصروفیت کا عذر پیش کر کے ٹیلیفون پر وقت مقرر کرنے کو کہا لیکن استید عودہ کے اصرار پر ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ ابھی میں نے بعض لوگوں کو دھا کے لئے بلایا ہے۔دعا سے فراغت کے بعد آپ مل لیں۔کوئی پون گھنٹہ تک دعا جاری رہی۔اس کے بعد ملحقہ پھوٹے خیمہ میں ڈاکٹر صاحب برادرم خوردہ کے پاس بیٹھ گئے۔عودہ نے انہیں نہایت موثر رنگ میں تحریک کی کہ یہ فیصلہ کی بڑی آسان راہ ہے۔آپ یہ دعوت مقابلہ قبول فرما لیں مگر ڈاکٹر صاحب نے دو ٹوک جواب دیا کہ جس دن سے مجھے یہ خط ملا ہے میں اس دن سے مقابلہ کی اجازت کے لئے خداوند لیسوع میسج سے دُعا کر رہا ہوں لیکن ہر روز جواب آتا ہے نہیں۔اب کل ہی جب انہوں نے یہ خط تقسیم کیا تو میں نے پھر ڈھا کی لیکن جواب ملا " نہیں تم اپنا کام کرتے جاؤ ان کی طرف مت دھیان دو“ اس پر خودہ صاحب نے کہا تو پھر آپ صاف صاف کیوں نہیں کہ دیتے کہ آپ کو اس امر کا قطعاً یقین نہیں کہ ندا آپ کی دعائیں سنے گا۔اس پر ڈاکٹر صاحب نے کریسی سے اُٹھتے ہوئے گھڑی کی طرف دیکھا اور کہا دیکھیں۔آپنے دس منٹ کا مطالبہ کیا تھا اور اب نصف گھنٹہ ہونے کو ہے اور مجھے اور بھی مصروفیات ہیں۔اس طرح یه بلند و بانگ دعا دی کرنے والے عظیم مسیحی مناد" اسلام اور محمد عربی صلے اللہ علیہ وسلم کے خادموں اور غلاموں کے مقابلہ میں آنے کی جرات نہ کرسکے اور اپنے عمل سے متصال اسلام پیر مہر تصدیق ثبت کر دی۔قیام مشن فرانکفورٹ کی دس سالہ تقریب فضل سے دس سال کاکامیاب مرد نے ان پر امارات عرصہ گزرنے اپریل پیش کو فرانکفورٹ میں ایک پر وقار تقریب کا انعقاد عمل میں آیا۔اس بابرکت تقریب کے رہتا رول مکرم بودهری ظفراللہ خان صاحب تھے۔آپ تین روزہ تک مشن ہاؤس میں قیام فرما رہے۔اپنے عرصہ قیام کے دوران آپ فرانکفورٹ میوزیم کے وسیع ہال مسکن برگ میں عصر حاضر کا مذہب (2005 RELICION) الفضل ما تبوک استمبر له مش صفحه ۳-۲۴ 1972