تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 163 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 163

106 سے دنیائے عیسائیت کے مشہور سی مناد ڈاکٹر سیموئل ڈاکٹریان کو قبولیت دعا میں مقابلہ کر نے کی بھوت اور ان کا واضح انکار ہے۔ڈاکٹر سیموئل ماہ جنون شائد کے دوران فرانکفورٹ میں تشریف لائے تو فری کو سچن پر جانے ایک با اثر مقامی اخبار میں ڈاکٹر سیموئل کی تصویر کے ساتھ بڑے طمطراق سے اعلان شائع کیا کہ آپ فرانکفورٹ شہر میں ہر شام مسلسل پندرہ روز تک لیکچر دیں گے۔نیز لکھا کہ زمانہ حاضر کے عظیم سیمی ستاد ڈاکٹر سیموئل خداوند لیوع کے عظیم تصرف کے ساتھ انجیل کی منادی کرتے ہیں اور ان کی تقاریہ سے مشرق وسطی ، افریقہ ، یورپ اور امریکہ میں زہر دست بیداری کے آثار پیدا ہو رہے ہیں مبلغ استسلام مسعود احمد صاحب جہلمی نے ارجون کو ڈاکٹر صاحب کا لیکچر سنا جس میں انہوں نے مسیح کے خون ، دنیا کی نجات اور الوہیت مسیح وغیرہ مسائل بیان کئے اور بڑے پُر جوش انداز میں اپنے مشن اور اپنے دوروں کی کامیابی کا ذکر کیا۔مبلغ اسلام مسعود احمد صاحب جہلمی نے اگلے روزہ اسلام کے نمایندہ کی حیثیت سے بذریعہ خط پادری صاحب کو دعوت دی کہ وہ حق و باطل کا لے ڈاکٹر سیموئل بیروت کے بائیل بینڈ مشن کے انچارج اور کبھی دنیا کی ایک معروف شخصیت ہیں۔آپ آرمینیا کے عیسائی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں مگر ابتدائی تعلیم یروشلم میں پائی ہے۔ان کا دعویٰ ہے کہ ان آخری ایام میں یسوع مسیح کی آمد ثانی سے قبل آسمانی باپ نے انہیں روح القدس کی زبر دست روحانی قوت کے ساتھ تمام دنیا اور خصوصا مشرق وسطی کے ممالک کو بیدار کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ڈاکٹر صاحب موصوف اپنی کتاب سموئیل ڈاکٹر یان کی کہانی (DOCTORIAN میں اپنی زندگی کے مختصر حالات بیان کرتے ہوئے خداوند یسوع مسیح " سے اپنی ملاقاتوں اور روح القدس کی زبر دست طاقت سے عو ر ہونے کا جابجا تذکرہ کیا ہے۔اس کتاب میں برازیل کے ایک میڈیکل ڈاکٹر کی شہادت بھی درج ہے کہ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو گا جس کی زندگی کے حالات، خالی از دلچسپی ہوں (THE STORY OF SAMUEL DOCTORIAN) لیکن سیموئیل ڈاکٹر یان کی زندگی نہ صرف، دلچسپ بلکہ خدائی روح اور اس کے تصرف کا عظیم مظہر ہے۔پادری ڈیوڈ گارڈنر نے کتاب کے پیش لفظ میں ڈاکٹر سیموئیل کے دورہ لندن (۱۹۶۳ء) کی اہمیت بیان کرتے ہوئے لکھا ہے۔برطانیہ کے کئی عیسائی جو سالہا سال سے عیسائیت کی تجدید کے لئے دعائیں کر رہے تھے انہیں اپنی دعائیں خدا کے شکر میں وقف کر دینی چاہئیں کیونکہ تجدید کا آغاز یقیناً ہو چکا ہے۔ملک کے مخدون حصوں میں روح القدس کی تعظیم تحریک کے آثار نمایاں نہیں : +