تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 133
۱۲۷ مرنا منور احمد صاحب کا کام نہایت اعلی درجہ کا کام تھا اور امریکہ کی جماعتوں میں انہی کی جماعت کو ان سے زیادہ محبت تھی۔ابھی پچھلے دنوں امریکہ کی جماعتوں کی جو کانفرنس ہوئی ہے اس میں بھی یہ تسلیم کیا گیا کہ وہ علاقہ میں میں مرزا منور احمد صاحب مبلغ تھے دوسرے علاقہ کی جماعتو سے دینی کاموں میں بڑھ گیا ہے۔پھر ان لوگوں نے اپنی محبت کا بھی ثبوت دیا۔جب ڈاکٹروں نے جسم میں خون داخل کرنے کا فیصلہ کیا تو اُن کے علاقہ کے نو مسلموں میں سے عورتوں اور مردوں کی ایک بڑی تعداد نے اپنا خون پیش کر دیا اور چونکہ ان کی ٹائپ کا خون نہیں مانتا تھا اس لئے جس تو مسلم کو یہ معلوم ہو جاتا کہ میرا خون مرزا منور احمد کے خون کے مشابہ ہے تو دہ بے انتہا خوش ہوتا اور فخر کرتا کہ میرا خون ان کے خون سے ملتا ہے۔جب مرحوم کے جسم میں خون کے داخل کرنے کی زیادہ ضرورت پیش آگئی اور ان کے خون کی ٹائپ کا اور خون نہ ملا تو ڈاکٹروں نے کہا آپ لوگ اپنا خون دے دیں ہم اپنے پاس سے ان کے ٹائپ کا خون استعمال کریں گے اور آپ کا خون آیندہ کے لئے رکھ لیں گے۔اس پر ان سب نے اپنا خون پیش کر دیا۔یہ چیز اس بات کی علامت ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے امریکہ کی جماعت اخلاص میں ترقی کر رہی ہے اور یہ مرحوم کے نیک نمونہ کا زبر دست ثبوت ہے" سے اس سال محمد یوسف صاحب پریذیڈنٹ جماعت انڈونیشیا کے دو مخلص احمدیوں کا انتقال احمدیہ پڈنگ اور امیر کو شا جیسے سلسلہ حمیدہ کے فدائی اور شیدائی داغ مفارقت دے گئے۔امیر کو ما عابد زاہد بزرگ تھے جو میدان کے ابتدائی مشہور مباحثات در منعقدہ ۱۹۳۷) کے بعد مولوی ابو بکر صاحب سماٹر کی اور مولوی محمد صادق صاحب کی تبلیغ سے اپنے پیر طریقت صوفی شیخ کا من سمیت احمدیت میں داخل ہوئے اور احمدیت کی خاطر ہمیشہ نہایت بشاشت سے مصیبتیں برداشت کرتے رہے۔ایک دفعہ تین مخالفوں نے آپ پر ڈنڈے سے حملہ کر دیا۔انہوں نے کمال بہادری سے تینوں کا ایسا کامیاب مقابلہ کیا کہ صبح ان میں سے دو کے منہ پھوٹوں کی وجہ سے سوج گئے تھے اور شکلیں بھیانک سی بنی ہوئی تھیں۔مولوی محمد صادق صاحب کا بیان ہے ے اس کا نفرنس کا ذکر اس باب کی فصل ششم میں آرہا ہے (مؤلف) له الفضل از افادر اکتوبرش صفحه کالم ۲ - ۴ :