تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 132 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 132

عزیزوں میں سے تھے یعنی ہماری حمانی صاحبہ کے بھائی اور ہماری ایک بھا وجہ صاحبہ کے ہوں تھے اور اس لئے بھی کہ مرحوم کا بچپن سے میرے ساتھ خاص تعلق تھا۔پس میں یہ بات بغیر کسی مبالغہ کے کہہ سکتا ہوں کہ مرحوم ایک بہت مخلص اور نیک اور ہو نہار اور محبت کرنے والا اور جذبہ خدمت و قربانی سے معمور نوجوان تھا۔دن ہو یا رات، دھوپ ہو یا بارش، جب بھی انہیں کوئی ڈیوٹی سپرد کی بھاتی تھی وہ کمال مستعدی اور اخلاص کے ساتھ اس ڈیوٹی کو سر انجام دینے کے لئے لبیک لبیک کہتے ہوئے آگے آجاتے تھے اور پھر اپنے مفوضہ کام کو اس درجہ توجہ اور سمجھ کے ساتھ سر انجام دیتے تھے کہ دل خوش ہو جاتا تھا اور زبان سے بے اختیار دعا نکلتی تھی۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ اسی نیکی کا نتیجہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی زندگی وقف کرنے اور پھر بلاد امریکہ میں وطن سے بارہ ہزار میل دور جا کر فریضہ تبلیغ بسیجا لانے کی سعادت عطا کی بوت تو ہر انسان کے لئے مقدر ہے مگر مبارک ہے وہ نوجوان جسے یہ سعادت کی زندگی عطا ہوئی اور مبارک ہیں وہ والدین جنہیں خدا نے ایسا نیک اور خادم دین بچہ عطا کیا۔" مترور خود حضرت سیدنا الصلح الموعود نے ۱۲۴ تبوک استمبر یہ اہش کے خطبہ جمعہ میں آپ کا ۳۲۰ تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا :- مرزا منور احمد صاحب جو امریکہ کے مبلغ تھے میری ایک بیوی ام متین کے ماموں ، میر محمد اسمعیل صاحب مرحوم کے سائے اور نہایت مخلص نوجوان تھے۔ان کے معدہ میں رسولی ہوئی اور وہ فوت ہو گئے۔ویسے تو ہر ایک کو موت آتی ہے لیکن اس طرح کی مورت گو ایک طرف قوم کے لئے فخر کا موجب ہوتی ہے لیکن دوسری طرف اس کا افسوس بھی ہوتا ہے کہ ایک آدمی کو پندرہ بیس سال میں تیار کیا بھائے اور وہ جیوانی کی حالت میں فوت ہو جائے۔یعنی بیگم صاحبہ حضرت میر محمد اسمعیل صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔+ سے حضرت سیده مریم صدیقرام متین دحوم ثالث محضرت سید نا اصلح الموعود) مراد ہیں ، سے مرحوم مرزا محمد شفیع صاحب کے صاحبزادے تھے : کے الفضل لاہور ہوا تبوک استمبرش صفحه ۳ کالم ۲-۲ نیز افضل ۲۰ اتحاد / اکتوبرش صفحه ۵ *