تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 119
۱۱۴ کی نقل میں جو بھی مرکز بنیں گے یقینا وہ بھی ہا برکہ ت ہو جائیں گے۔جس خدا نے لگے اور مدینے کو برکت دی میں نہیں یقین دلاتا ہوں کہ اس کے خزانے میں ابھی اور بھی بہت سی برکتیں ہیں۔تم صرف نیک نیتی سے دین کی خدمت کرنے کا تہیہ کر لو پھر میں بیگہ مرکز بناؤ گے وہ مقدس ہو جائے گی۔حضور نے چندوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔جب سے مرکزی دفاتہ کا اکثر حصہ ربوہ چلا گیا ہے یک دم چندوں میں کمی آگئی ہے چنا نچہ پچھلے تین ماہ ایک لاکھ روپے کا نقصان ہوا ہے۔میں جماعتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ جلد سے جلد اپنے چندے وجود میں بھیج دیں۔اگر یہ کسی جاری رہی تو لازمی طور پر دین کے موجودہ کاموں کو صدمہ پہنچے گا۔آخر میں حضور نے فرمایا : انگریزوں کے پچھلے جانے سے اور پاکستان کے قیام سے لازمی طور پر ہماری ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں۔ہمیں بدلے ہوئے حالات کو اور وقت کی نزاکت کو محسوس کرنا چاہیے۔ہماری جماعت کو بالخصوص اپنا نظریہ بدل لینا چاہیئے۔اب صرف چندوں سے ، نماز روزہ حج اور زکوۃ سے ہم اپنا فرض ادا نہیں کر سکتے۔ہمیں اسلام کی حفاظت اور بقا کے لئے جانی قربانی کے لئے بھی اپنے آپ کو تیار رکھنا چاہیے۔جس طرح مالی قربانی کے میدان میں ہم نے عدیم النظیر مثال دنیا میں قائم کی ہے۔اسی طرح بھائی قربانی کے میدان میں بھی تمہارا امام تم سے ایسا نمونہ طلب کرتا ہے جس کی کوئی مثال نہ ہو۔مومن بہادر ہوتا ہے۔اگر ہماری جماعت مومن ہے تو پھر اسے بہادر بھی بننا چاہئیے اور صرف بہادر ہی ہماری جماعت میں رہنے کا حقدار ہے۔۔بھار کے دور مقررین حضرت میموں کے ان ارانی مطابات کے علاوہ موانا بالعفو الحب مولانا ابو العطاء صاحب، جالندھری، چودھری اسد اللہ خاں صاحب ، قاضی محمد اسلم صاحب پروفیسر گورنمنٹ کالج لاہور ، مولانا جلال الدین صاحب شمش ، حضرت مفتی محمد صادق صاحب، حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب اور بعض دیگر مقررین کی مختلف اہم موضوع پر تقریریں ہوئیں۔الفضل لاہور ۲۸ فتح اردسمبر ۱۳۳۷ ش صفحه ۳- تفصیل الفضل ۲۶، ۲۸ فتح اردسمبر ۳۲ میش میں درج ہے۔