تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 116 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 116

لئے کافی ہو۔گذشتہ دو سال سے عورتیں جلسہ میں شامل نہیں ہو سکیں حالانکہ قادیان میں جلسے کے موقع پر اگر مرد تیس ہزار ہوتے تھے تو عورتیں بھی پندرہ ہزار کے قریب ضرور ہوتی تھیں۔ربوہ کے اس پہلے جلسے میں عورتوں اور بچوں کو بھی شامل ہونے کی اجازت ہوگی۔اگر تعمیر کا سلسلہ نہ بھی شروع ہوا تو عورتوں کے لئے قناتوں کا انتظام کر دیا بھائے گا اور مرد کھلے میدان میں رہ سکیں گے۔یہ ایک نہایت ہی خوش کن نظارہ ہو گا فطرتی سادگی کا۔یہ نظارہ مگر میں میچ کے موقعہ پر ہر سال ہی نظر آتا ہے جبکہ لوگ مکانات کی قلت کی وجہ سے سڑکوں اور میدانوں میں پڑے ہوئے ہوتے ہیں۔در حقیقت ابتدائی سادگی جو فطستے میں اللہ تعالیٰ نے رکھی ہے وہی دُنیا میں حقیقی امن قائم کر سکتی ہے۔جب تک انسان اُن چیزوں پر اکتفا نہیں کرتے جو خدا نے دی ہیں اس وقت تک دنیا سے فتنہ و فساد کبھی میٹ نہیں سکتے۔میں یہ بھی تحریک کرتا ہوں کہ دوست اپنی اپنی جگہ دالیں جمع کریں جو جلسے کے موقعہ پر کام آسکیں۔لیکن چندہ جلسہ سالانہ پر اس کا اثر نہیں پڑنا چاہیے۔اگر دوست ماش، چنا، مونگ اور مسور ثابت ابھی سے جمع کرنا شروع کر دیں تو یہ چیزیں کافی کام آسکتی ہیں۔میں ایک اور ضروری تحریک بھی احباب کو کرنا چاہتا ہوں۔اس وقت تک ربوہ کے گرد و نواح میں چیزیں کافی سستی ہیں۔لیکن جو نہی قصبہ آباد ہو گیا چیزیں گراں ہونے کا احتمال ہے۔شروع میں وہاں پر روپے کا پچار اور پانچ سیر کے درمیان دودھ مل جاتا تھا۔اب جب ہمارے کچھ دفاتر چلے گئے ہیں دودھ روپے کا تین سیر ہو گیا ہے۔جن علاقوں میں بھینسیں پالنے کا شوق ہے اور لوگ بھینسیں صدقہ کے طور پر دے سکتے ہیں انہیں بھینسیں ہدیہ سلسلہ کو پیش کرنی چاہئیں تا کہ مرکز کے قائم ہونے سے قبل وہاں پر اتنی بھینسیں موجود ہوں کہ ہم اس علاقہ سے دودھ نہ خریدیں اور قیمتیں بلا وجہ گراں نہ ہوں۔ہماری تحریک پر بڑھٹی ، معماروں اور دیگر کا ریگروں نے کئی سو کی تعداد میں مرکز میں کام کرنے کی درخواستیں دی ہیں۔میں ان سب کو اطلاع دے دیتا ہوں کہ وہ پابہ رکاب