تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 115 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 115

11۔ہیں۔اس لئے ہم نے غور و فیسکر کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس دفعہ بجائے کرسمس کے ایسٹر را پریل ۱۹۴۹ء) کی تعطیلات میں جلسہ منعقد کریں۔اگر اس وقت تک اللہ تعالیٰ نے عمارتوں کی کوئی صورت پیدا کر دی تو انشاء اللہ بہتر انتظامات ہو جائیں گے۔ورنہ موسم اس وقت تک اس حد تک بدل چکا ہو گا کہ اگر رہائش کے لئے مکان میسر نہ بھی ہوں تو کھلے میدان میں سویا جاسکے گا اور دن کو شامیانوں کے نیچے تقریریں ہو سکیں گی۔پس چونکہ ہمیں ایسٹر کی تعطیلات میں جلسہ کرنا آسان نظر آیا اس لئے ہم نے اس دفعہ دسمبر میں اپنا مرکزی جلسہ ملتوی کر دیا ہے۔لاہور کی جماعت نے اس التواء سے فائدہ اُٹھا کر اپنا جلسہ کر لیا ہے۔اس سے لاہور کی جماعت نے بھی ثواب حاصل کر لیا ہے اور بیرونی جماعتوں کو بھی کسی حد تک جمع ہو کہ جماعتی مشکلات کو سمجھتے اور میرے خیالات سُننے کا موقع مل گیا ہے۔ہمارا آئندہ جلسہ سالانہ انشاء اللہ نئے مرکز میں ہوگا اور وہ اس جگہ کا پہلا جلسہ ہوگا۔بیرو نجات سے آئے ہوئے دوستوں کے ذریعہ سے اور اس لحاظ سے بھی کہ میری آوازہ اخبار کے ذریعہ سے باہر پہنچ جائے گی ، میں ساری جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں که در این جلسہ میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں آنے کی کوشش کرے۔وہ جلسہ چونکہ نئے مرکز میں پہلا جلسہ ہوگا اس لئے خاص طور پر وہ دعاؤں کا جلسہ ہو گا تا کہ اللہ تعا لئے ہمارے نٹے مرکز کو سہارے لئے اور اسلام کی عظمت اور بڑائی کو ظاہر کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ با برکت کرے۔پس ابھی سے تمام دوستوں کو تیاری شروع کر دینی چاہیئے۔لیکن غلہ سے متعلق حکومت کی طرف سے عائد شہدہ پابندیوں اور غیر معمولی گرانی کی وجہ سے ہمارے لئے ربوہ میں وسیع پیمانے پر مہمان نوازی کرنا مشکل ہوگا۔اس لیئے میں زمیندار دوستوں سے درخواست کرتا ہوں کہ جب وہ جلسے پر آئیں تو اُن میں سے ہر فرد اپنے ساتھ کم از کم تین سیر گندم یا آٹا ضرور لیتا آئے۔اس تین سیر میں سے ڈیڑھ دو سیر تو خود اس کی اپنی خوراک کے لئے ہوگا اور باقی ڈیڑھ سیر اس کے دیگر غریب دوستوں یا اس کے ان شہری بھائیوں کے لئے ہوگا جو راشن وغیرہ کی پابندی کی وجہ سے غلہ نہیں لاسکیں گے اگر اس طریق پر عمل کیا گیا تو امید ہے کہ اتنی گندم مہیا ہو جائے گی جو تمام مہمانوں کے