تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 114 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 114

1-9 کونسے فتنے فساد انہوں نے رفع کئے ہیں۔کو نسا تغیر انہوں نے پیدا کیا ہے اور اگر انہوں نے اسلامی تعلیم پر عمل کر کے کچھ نہیں کیا تو اس تعلیم کو تم ہمارے سامنے کیوں پیش کرتے ہو۔جب اس کے ماننے والے اُسے رو کر چکے ہیں تو نہ ماننے والے کیونکر قبول کریں۔یہ ایسا زبر دست اعتراض ہے کہ اس کے سامنے ہمارے لئے بولنے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔پس ضرورت ہے کہ ہم اپنے اندر تغیر پیدا کریں اور اسلام کی تعلیم کے ساتھ عمل کا ایسا اعلیٰ نمونہ پیش کریں کہ دشمن بھی اسلام کی علمی و عملی برتری کا اقرار کرنے لگے جب تک ہم عملی نمونہ پیش نہ کریں ہم غلبہ نہیں پاسکتے۔پس یہ وہ دروازہ ہے جس سے گزر کہ ہم اپنے مقصد کو پالیتے ہیں اور اسلام کے غلبہ کی عمارت میں داخل ہو سکتے ہیں۔جہانتک ہمارے مقصد کا تعلق ہے وہ واضح ہے که قرآن کریم میں ہمارا فریضہ اسلام کو دو سے ادیان پر غالب کرنے میں کوشاں رہنا بیان فرمایا ہے لیکن جہانتک عمل کا سوال ہے اس میں ہم تمہید مت ہیں۔فرمایا :- باتیں سننا بھی ضروری ہے اور اچھی باتیں سننی چاہئیں لیکن اب عمل کا زمانہ ہے۔باتیں کم شنو اور عمل زیادہ کرو۔حضرت امیر المومنین نے اپنے اختتامی خطاب میں مرکز ربوہ کے پہلے جلسہ اختتامی خطاب میں میں بکثرت آنے کی تحریک کرنے اور مرکز می چندوں اور جانی قربانیوں کی اہمیت پر روشنی ڈالنے کے علاوہ پوری قوت اور شوکت کے ساتھ خوشخبری سنائی کہ یہ قطعی اور یقینی بات ہے کہ اسلام اب آئے ہی کی طرف قدم بڑھائے گا۔اب اسلام ہی کے غالب ہونے کی باری ہے اور کفر کے غالب ہونے کی باری ختم ہو چکی ہے حضور کی اس تقریبہ کا ملخص درج ذیل کیا جاتا ہے :- جیسا کہ احباب کو معلوم ہے یہ ہماری لاہور کی جماعت کا جلسہ ہے۔یہ بہار مرکزی سالانہ جلسہ نہیں ہے۔مرکز کی سالانہ جلسہ ہم نے اس سال اپنے نئے مرکز ریوہ میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔لیکن چونکہ نئے مرکز میں جلسہ کرنے کی راہ میں ابھی بہت سی مشکلات حائل له الفضل ۶ فتح دسمبر صفحه 1