تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 105 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 105

49 اپنی حکومت کے حقوق اسے دو اور ضرور دو۔مگر دوسری طرف اپنے حقوق بھی اس سے لو اور ضرور ہو۔اور چونکہ ہمارے حقوق در اصل سب خدا کے حقوق ہیں اس لئے ہم مسیح : مری کے مشہور الفاظ میں کھ سکتے ہیں تو قیصر کا ہے وہ قیصر کو دو اور جو خدا کا ہے وہ تعدا کر دو کہ یہی دینا ودنیا میں حقیقی امن کا راستہ ہے۔میں اس موقعہ پر اس بات کے اظہار سے بھی تک نہیں سکتا کہ قریباً آٹھ نو ماہ سے جہاں تک نمادیان کا تعلق ہے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ہر قسم کے کانوائے کا سلسلہ لگا ہوا ہے اس لئے قادیان کی موجودہ آبادی کا وہ حصہ جو در اصل پاکستان کا شہری ہے یعنی وہ اپنے مقدس مرکز کی زیارت اور اپنے مقدس مقامات کی خدمت کے لئے قادیان گیا اور پھر حالات کی مجبورکی کی وجہ سے ابھی تک واپس نہیں آسکا، وہ تقدمت مرکز کی روحانی خوشی کے ساتھ ساتھ طبعاً بعض جسمانی تکالیف اور پریشانیوں کا بھی شکارہ ہو رہا ہے۔ہم حکومت کے متعلقہ حکام کے ذریعہ اس بات کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ ایسے دوستوں کو واپس آنے کا موقعہ مل جائے اور ان کی جگہ وہ دوست قادریان پہلے جائیں جو قادیان کے باشندے ہیں، اور اپنے مرکز میں واپس جا کر مخدمت دین کا موقعہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔مگر افسوس ہے کہ انتہائی کوشش کے باد یو د ابھی تک اس معاملہ میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔اس بات کے تو کہنے کی ضرورت نہیں کہ ان دوستوں اور ان کے عزیزوں کے ہتھے ہمیں دلی ہمدردی ہے مگر میں یہ بات تو ضرور کہوں گا کہ جب تک ہمیں اس معاملہ میں کامیاب نہیں ہوتی ایسے دوست قادیان کے قیام کو ایک نعمت خیال کرتے ہوئے اس سے پورا پورا فائدہ اٹھا نے کی کوشش کریں۔انہیں وہ متوجہ عام ہے جو احمدیت کی تاریخ میں ہمیشہ یاد گار رہنے والا ہے اور انشاء اللہ ان کی آئندہ نسلیں ان کے رانا وقت کی خدمت کا قیامت تک فخر کے ساتھ ذکر کیا کریں گی اور بہرحال یہ ایک مادرانی جُدائی ہے۔وَجَلَّ الْقَلَمُ بِمَا هُوَ كَائِن ، اور پھر مومن کی روح تو جسم کی برائی میں بھی قرب کا لطف حاصل کر لیا کرتی ہے۔یہ الفاظ میں نے صرف احتیاط کے طریق پر ہر رنگ کی طبیعت کو مد نظر رکھ کر لکھتے ہیں ورنہ حق یہ ہے کہ قادیان کے دوستوں کی طرف سے میں قسم کی تشہیت اور فدائیت اور رضاء و محبت اور صبر و سکون کے خطوط مجھے ہر روزہ