تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 98
۹۲ چیزوں پر قبضہ کیا گیا ہے۔یہ چیزیں ہمارے سپرد ہونی چاہئیں اور ہمیں ان کے استعمال کا موقع دینا چاہیے یہ عقل کے ساتھ اور ادب کے ساتھ اگر ان مطالبات کو حکام کے سامنے بار بار رکھا جائے اور ان پر یہ روشن کیا جائے کہ ہندوستان یونین کے احمدی ہندوستان یونین کے وفادار ہیں جس طرح پاکستان کے احمدی پاکستان کے وفادار ہیں پھر ان سے باغیوں کا سا سلوک کیوں کیا جاتا ہے تو یقیناً حکومت ایک دن اپنا رویہ بدلنے پر مجبور ہوگی۔(11) جب تک پر لیں نہیں ملتا اس وقت تک جماعتوں کے نام چھٹی لکھ کر ہر پندرھویں روز بھیجوانا شروع کریں جس میں جماعتوں کو اُن کے فرض کی طرف توجہ دلائی جائے۔اگر عہدہ داران جنگہ چھوڑ گئے ہیں تو نئے عہدہ دار مقرر کرنے کی طرف تو بقیہ دلائی جائے۔اگر عہدہ دار عہدوں پر موجود ہیں لیکن کام نہیں کرتے تو اُن کو کام کرنے کی طرف تو تہ دلائی جائے۔اگر بالکل بیدار نہیں ہوتے تو اُن کو بدلنے کی طرف توجہ دلائی جائے۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَدَ كُرُ ان نَفَعَتِ الذکری۔اگر آپ پیچھے پڑ جائیں گے تو یقینا ایمان کی پنگاری پھر سلگ اٹھینگی سونے والے پھر بیدار ہو جائیں گے بلکہ مردے بھی زندہ ہو جائیں گے اور پھر تم و تازگی اور نشو و نا کے آثار ظاہر ہو نے لگ بھائیں گے۔آپ تین سو سے زیادہ آدمی وہاں ہیں۔اگر ان میں سے تھا آدمی کا خط پڑھے بجانے کے قابل ہو اور ہر چھٹی تین تین سو کی تعداد میں باہر بھیجی جائے تو ہر لکھے پڑھے آدمی کو پندرہ دن میں صرف تین چھٹیوں کو نقل کرنا پڑتا ہے اور یہ کوئی بڑا کام نہیں۔ان پیٹھیوں میں ایمان کو اُبھارنے یا زندگی کو قائم رکھنے ، ہمت سے کام لینے اور خدا تعالیٰ کے اُن بے انتہا فضلوں میں حصہ لینے کی دعوت ہو جن کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وعد کیا گیا تھا۔طرح طرح سے اور بار بار جماعتوں کو ہلایا جائے ، جگایا جائے اور نہ صرف ہلایا اور گایا جائے بلکہ تبلیغ کر کے اپنے آپ کو وسیع کرنے کی طرف توجہ دلائی جائے۔اس وقت مسلمان بے کسی کی حالت میں پڑا ہے۔اس وقت وہ سچائی پر غور کرنے کے لئے تیار ہے۔وہ اس ہاتھ کے لئے ترس رہا ہے جو اس کو پکڑ کر سنعات کی طرف لے جائے۔اگر آج آپ لوگ سے اس حکم کی تعمیل میں ۲۶ فتح ادسمبر کے اجلاس دوم میں جماعت ہائے احمدیہ ہندوستان کی طرف سے اتفاق رائے کے ساتھ ایک ریزولیوشن بھی پاس کیا گیا ؟