تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 97 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 97

91 کہ کچھ طالب علموں کو مولوی بیشہ احمد صاحب اپنے ساتھ لکھ کر دہلی میں پڑھائیں اور کچھ طالبیٹیوں کو ساتھ رکھ کر مولوی محمد سلیم صاحب کلکتہ میں پڑھائیں اور کچھ طالب ہوں کو ساتھ رکھ کر موادی عبدالمالک صاحب حیدر آباد میں پڑھائیں اور پھر ان کو ارد گرد کے علاقوں میں پہیہ چلے جائیں لیکن یہ مد نظر رکھا جائے کہ ہندوستان کے چندوں سے ہندوستان کا فرق ہے ، سکے اور نادیان کی آبادی کا خرچ بھی وہیں سے نکل سکے۔(6) قادیان میں احمدیوں کے آنے اور قادیان کے احمدیوں کو ہندوستان یونین میں جانے کے متعلق آزادی کرانے کے لئے آپ لوگ با قاعدہ کوشش کریں اور کوشش کرتے پہلے بھائیں تاکہ قادیان میں پھر زائرین آنے لگ جائیں۔اور قادیان کی نہر ایک کھڑے پانی کے جوہر کی سی شکل اختیار نہ کرہ ہے۔(۸) آبادی کی زندگی کے لئے عورتوں اور بچوں کا ہونا بھی ضروری ہے۔آپ لوگ متواتر کا دستہ کے ساتھ خط و کتابت کریں اور کوشش کریں کہ ایسے حالات پیدا ہو جائیں کہ قادریانا کے سالہ ان کے بیوی بچے وہاں حفاظت کے ساتھ رہ سکیں۔(4) جونہی قادیان میں کچھ ایسے نوجوان آجائیں جن کا تعلیم پانے کا زمانہ ہو تو تدلاً ایک سال کی بنیاد رکھ دی جائے جس کے متعلق کوشش ہو کہ وہ آہستہ آہستہ بڑھتا چلا جائے۔(۱) ہند بستان یونین کی صدر انجمن حمدیہ نے ایک دن کے لئے بھی ہندوستان نہیں چھوڑا۔اسی طرح وہاں کی تحریک بدید انہن بھی ہیں ہے۔یہ انجمنیں قادیان کی جائداد کا مطالبہ کر سکتی ہیں۔آپ کو بڑے سے زور سے اس امر کا مطالبہ کر نا چا ہیئے۔افراد کی مہانداد کا بے شک جھگڑا ہو لیکن صدر انجمن احمدیہ اور تحریک جدید تیم که مند دستان یونین میں موجود ہیں تو کیوں حکومت اُن کے بعد اُن کی بھا یاد نہ کرے۔کالج ، سکول، ہسپتال ریتی چھلہ ، زنا نہ سکول، دارالانوار کا گیس ، بادس ، خدام الاحمدیہ کے دفاتر ، تحریک جدید کی زمینیں ، ان کے مالک قادیان میں بیٹھے ہے۔آپ لوگ اس کے متعلق دعوی کریں اور ان افظوں میں کریں کہ جبکہ ان جگہوں کے مالک مدر انجمن احمدیہ ، تحریک جدید اور خدام الاحمدیہ آبادیان میں موجود ہیں اور سمیکہ ان جگہوں سے فائدہ اُٹھانے والے احمد کی ہندوستان یونین میں موجود ہیں تو کس قان کے ماتحت ان