تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 96
4۔کو کوشش کر کے دہلی پہنچا یا جائے اور وہاں سے آگے سہندوستان کے مختلف علاقوں میں جہاہا احمدیہ جماعتیں قائم ہیں پھر بلا دیا جائے۔یہ لوگ وہاں جا کر نہ صرف موجودہ جماعتوں کی تنظیم کریں با کمه جماعت کو وسیع کرنے کی کوشش کریں۔چونکہ آپ لوگ انڈین اپنین ہیں ہیں اور وفادار شہریوں کی حیثیت میں ہیں کوئی وجہ نہیں کہ حکومت آپ میں اور دوسرے کام کرنے والے لمانوں میں کوئی فرق کرے۔ان جانے والوں کے بدلے میں ہندوستان کی جماعتوں میں تحریک کر کے نئے واقفین بلوا کے قادیان میں رکھے بہائیں جو قادیان میں آکر تعلیم حاصل کریں اور پھر بیرونی جماعتوں میں پھیلا دیے لئے جائیں۔سر دست اگر جلسہ میں کچھ احمد ہی باہر سے آکر شامل ہوئے ہیں تو اُن کے ساتھ پانچھ دیہاتی مبلغ بھجوا دیئے بھائیں جو مولوی بشیر احمد صاحب دہلوی کی نگرانی میں یو پی کے مختلف علاقوں میں کام کریں یو پی کی جماعتوں میں سے لکھنو ، شاہجہانپور ، اور بریلی ، آگرہ کی اچھی جن عتیں تھیں لیکن اب دیر سے ان کا پتہ ہی نہیں لگتا کہ وہ کہاں ہیں۔اگر یہ لوگ وہاں جا کہ کام کریں تو نہ صرف وہ جماعتیں جلد منظم ہو جائیں گی بلکہ نئے سرے سے پھولنے اور پھلنے لگ جائیں گی۔ان جانے والے مبلغین کو سمجھا دیا جائے اگر بعض جماعتیں گذشتہ صدمات کی برداشت نہ کر کے بالکل مردہ ہو چکی ہوں تب بھی گھبرائیں نہیں۔ایک دو تین جتنے احمد ہی مل سکیں اُن کو جمع کر کے نئے سرے سے کام شروع کر دیں۔پھر وہ انشاء اللہ یکھیں گے کہ ابھی چند دن بھی نہیں گزرے ہوں گے اور پہلے سے بھی زیادہ مضبوط جماعتیں وہاں قائم ہو جائیں گی بلکہ اردگرد کے علاقوں میں بھی احمدیت پھیلنے لگ جائے گی۔یہ یاد رہے کہ سب کے سب مبلغوں کو اکٹھا نہ بھیجوایا جائے کیونکہ ممکن ہے کہ ان کے قائم مقاموں کے آنے میں دقت پیدا ہو اور قادیان کی احمدی آبادی کم ہو جائے۔اس خطرہ کو آپ کبھی نہ بھولیں۔اور ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھیں۔ہمیشہ پہلے باہر سے آنے والوں کو اندر لایا کریں اور پھر بعض دوسروں کو باہر جانے کی اجازت دیا کریں سوائے اُن پانچی کے تین کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔(۵) چونکہ اب ملک میں ہند کا گاز در ہو گا اس لئے آپ لوگ بھی دیوناگری رسم الخط کے سیکھنے کی کوشش کریں اور ہندی زبان میں لٹریچر کی اشاعت کی طرف خاص توجہ دیں (4) جب تک باہر سے واقفین کے آنے کی پوری آزادی نہ ہو یہ بھی ہو سکتا ہے نگرانی میں سب سے اول یو پی کی تنظیم نو کا کام شروع