تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 74
۷۴ اس تفصیل سے ظاہر ہے کہ صقلیہ میں اگر میت تبیین سيدنا الصلح الموعود کی طرف اظہار خوشنودی اسلام کا قیام نایت مختص تھا مگر اس ایل سے وصہ میں خدا کے فضل و کرم سے اسلام کا بیج بو دیا گیا۔حضرت سیدنا المصلح الموعود ان مبلغین کے سیسلی میں پہنچنے پر کس درجہ مسرور و محفوظ ہوئے۔اس کا اندازہ اس سے لگ سکتا ہے کہ جب حضور کی خدمت میں مبلغین اٹلی کی طرف سے یہ خوش کن اطلاع پہنچی کہ پہلے دو روزمیں ہی خدا کے فضل و کرم سے دو نفوس حلقہ بگوش اسلام ہو گئے ہیں تو حضور نے انہی دنوں مجلس علم و عرفان میں اس پر خوش نودی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا :- " صقلیہ کے لوگ آجکل اپنی آزادی کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔اس علاقے کے مسلمانوں کو جبراً عیسائی بنایا گیا تھا لیکن امتداد زمانہ کی وجہ سے وہ اب اپنے آبائی مذہب کو بالکل بدل گئے ہیں منتقلیہ میں رہنے والوں میں سے لاکھوں ایسے ہیں جو مخلص، دیندار اور پرہیز گار مسلمانوں کی اولادیں ہیں ان کے آباؤ اجداد اسلام کے فدائی اور بہت متقی لوگ تھے لیکن یہ لوگ اسلام سے بالکل غافل ہیں اور عیسائیت کو ہی اپنا اصلی مذہب سمجھتے ہیں لیکں نے اٹلی کے مبلغین کو لکھا کہ آپ اس علاقہ میں تبلیغ پر زور دیں، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ان کے آباء و اجداد کی ارواح کی تڑپ اور ان کی نیکی ان کی اولادوں کو اسلام کی طرف لے آئے پہلا خط ان کا جو مجھے پہنچا اس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ہم اب روم سے آگئے ہیں اور صقلیہ کی طرف بھا رہے ہیں۔پھر ان کا دوسرا خط مجھے پہنچا کہ ہم مینہ میں پہنچ گئے ہیں۔لوگ ہمارے لباس کو دیکھ کر جوق در جوق ہمارے ارد گرد جمع ہو جاتے ہیں۔ہم ان کو یہ وعظ کرتے ہیں کہ تمہارے باپ دادا تومسلمان تھے تمہیں کیا ہوگیا کہ تم اسلام سے دور پہلے گئے ہو۔اب دوسر ایسی آگیا ہے آؤ اور اس کے ذریعہ حقیقی اسلام میں داخل ہو جاؤ تغییر اخط اُن کا نے سیسلی کے ابتدائی نو مسلموں کا نام محمود اور بشیر رکھا گیا ؟ نے سے یہ دونوں خط جن میں سے ایک ملک محمد شریف صاحب کا اور دوسرا ماسٹر محمد ابراہیم صاحب خلیل کا لکھا ہوا تھا الفضل کی ہم وفار جولائی میں کی اشاعت میں محفوظ ہیں حضور نے یہ خط ملاحظہ فرمانے کے بعد اپنے قلم سے تحریر فرمایا اللہ تعالی نے میری خواہش پوری کی اس وقت سپین اور سلی دونوں سابق اسلامی ملکوں میں ہمارے مبلغ پہنچ گئے ہیں اور تبلیغ اسلام کا کام مشروع ہو چکا ہے ؟