تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 75 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 75

مجھے آج ملا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے یہاں کے دو نوجوان احمدی ہو گئے ہیں۔دونوں بہت جوشیلے احمدی ہیں۔احمدیت کی تبلیغ کا بہت جوش رکھتے ہیں۔ایک کا نام ہم نے محمود رکھا ہے اور دوسرے کا نام ہم نے بیر رکھا ہے۔ان کا خط بھی مجھے آیا ہے جس میں انہوں نے بیعت کا لکھا ہے۔ہمارے لئے یہ حالات خوش کن ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں توفیق دے کہ یہ دونوں ملک اسپین اور منقلیہ۔ناقل ) ہمارے ذریعہ پھر اسلام کا گہوارہ بن جائیں“ اس کے ساتھ ہی حضور نے جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ :۔" جہاں ہمارے مبلغین بیرونی ممالک میں تبلیغ کے لئے جا رہے ہیں اور وہ ہماری طرف سے فریضہ تبلیغ ادا کر رہے ہیں وہاں ہم پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم ان کی اعداد صحیح طور پر کریں اور ان کے اخراجات کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔۔ہمارے مبلغین کا تو بیرونی مالک میں یہ محال ہے کہ ان میں سے ایک بینے ماسٹر محمد ابراہیم صاحب نے جنگل میں جا کر درختوں کے پتے کھا کر پیٹ بھرا اور دوسرے بھی نہایت تنگی کے ساتھ گزارہ کرتے ہیں لے علاوہ ازیں حضرت سیدنا المصلح الموعود نے ایک اہم مضمون بھی سپر قلم فرمایا جس میں سیسلی کے نی مسلموں کے خطوط کا چربہ اور ترجمہ دیتے ہوئے تحریر فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کس قدر احسان ہے کہ اُس نے اسلام کی شوکت گزشتہ کو واپس لانے کے لئے ہماری جماعت کو قائم کیا ہے اور پھر ہمارے نوجوانوں میں اخلاص اور قربانی کی روح پیدا کی ہے اور آج ہم سپین اور مسلی دونوں جگہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے دوبارہ اسلام کا جھنڈا گاڑنے کی جد وجہد میں مشغول ہیں۔الحمد اللہ ملے ذ ذلك ، گو صقلیہ شن نامساعد حالات کی وجہ سے جلد بند کر دینا پڑا مگر یورپ میں قیام توحید سے متعلق خدائی بشارتوں کی بناء پر ہمیں یقین ہے کہ جلد یا بدیر حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے خدام ایک بار پھر اس علاقہ میں پہنچیں گے اور اس کے چپہ چپہ پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت قائم کر کے له الفضل ۱۷ و فار جولائی ه م ب له الفضل امر و فار جولائی را کالم و وفا : ۶۱۹۴۶