تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 69
۶۹ جبکہ TOYW BEE کہتا ہے کہ آخر میں یہ دو متوازی تمدن اکٹھے ہو جائیں گے۔BERTRAND RUSSELL کہتا ہے کہ یورپ اپنی مادہ پرستی کی وجہ سے اپنی تہذیب کا گلا گھونٹ رہا ہے اس لئے خیال گزرتا ہے کہ شاید یہ سچ ہی ہو۔یچ تو یہ ہے کہ انتہائی ضلالت اور خوفناک مصائب کے اندر ایک نیا تہذیب و تمدن جنم لے رہا ہے ہمیں اس کو اس کی علامات سے پہچاننا چاہیے تا کہ انسان کا حقیقی و قار و عاریت قائم ہو" پین کشن کی تبلیغی سرگرمیوں کا دائرہ سپین سے باہر افریقہ اور افریقہ اور مشرق وسطی کے مشرق وسطی تک وسیع ہو چکا ہے چنانچہ اس مشن کی طرف سے مسلمان سفیروں کو پیغام حق سفیر مرو مصطفی لطفی سفیر شام انشأة السبی، سعی مراکو ماند ( نمائنده لیبیا، نمائندہ الجزائر ، نمائندہ موری طانیہ کو اسلامی اصول کی فلاسفی (عربی) “ اسلام کا اقتصادی نظام " روبي نَحْنُ مُسْلِمُونَ" (عربی) " سفینہ نوح " دعوتِ احمدیت و غرضها " اور دیگر کتب اور پمفلٹ پیش کئے گئے۔ان ممالک کے سفارتی عملہ کے باقی مہروں کو بھی سلسلہ کا لٹریچر مطالعہ کے لئے دیا گیا اور لما اعتقد الاسلام کی وسیعی تقسیم کی گئی ہے۔علاوہ ازیں انور سادات (صدر مصر) - بو محی الدین (صدر الجزائر ) محسن ثانی (والی مراکش) حبیب بورقییہ (صدر ٹیونس) میجر جنرل جعفر نمیری (صدر سوڈان)، کرنل قزافی (صدر لبیبیا) - جنزل حافظ الاسد (صدر شام کو بھی فلسفہ أصول الاسلامیہ" " نظام الاقتصاد فی الاسلام ی سفینه نوح " دعوۃ احمدیت و غرضها، و غیره " عربی لٹریچر بھجوایا گیا۔احمد یڈیشن کی کوششوں کا یہ بھی نتیجہ ہے کہ خدا کے فضل سے مرا کو کے دو تعلیم یافتہ مسلمان بن عیسی (CENTA شمالی افریقہ مقبوضہ سین) اور احمد عروشی (ربط) حلقہ بگوش احمدیت ہو چکے ہیں۔احمدیہ یشن کے ثمرات و نتائج کا اندازہ اس سے لگ سکتا محمد احمد پیش کے ذریعہ حلقہ بگوش اسلام کے سرکاری پابندیوں اور کی بولک چریا کی پر نور ہے کیتھولک یہ ہونے والوں کے اسماء بھی لغت کے با وجود وسط احسان جون من ۱۳۵ تک سیتین کے مندرجہ ذیل انتیس افرا د اسلام قبول کر چکے ہیں۔51961