تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 64 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 64

۶۴ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازہ اور تخمینہ مقرر کیا ہوا ہے جس وقت وہ وقت آئے گا ہو جائے گا تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔مادی ذرائع اگر نہیں ہیں تو تم شکر نہ کرو اللہ کافی ہے وہ ہو کر رہے گا۔چنانچہ میرے دل میں نوناطہ سے طلیطلہ تک حضور انور فراط میں دو روزہ قیام کے بعد دیگر تشریف لے گئے طلیطلہ طلیطلہ میں اب تک چار قدیم مساجد باقی ہیں جو تین کے نیشنل ٹرسٹ کی تحویل میں ہیں۔ان مساجد میں وہ چھوٹی سی مسجد بھی ہے جس کے متعلق مشہور ہے کہ یہاں، طارق بن زیاد نے اس سرزمین پر قدم رکھنے کے بعد سب سے پہلی نماز پڑھی تھی حضرت خلیفہ ایسیح الثالوث ایک اللہ تعالیٰ نے طلیطلہ کی اس تاریخی مسجد میں دعا کی حضرت اقدس جب دعا کے بعد مسجد کے قریبی دروازہ سے گزر کر باہر تشریف لائے تو یونیورسٹی کے ایک پر و فیسر نے بتایا کہ یہ وہ دروازہ ہے جو مسلمانوں کے دور حکومت میں خلیفہ کے لئے مخصوص تھا یہ دورۂ طلیطلہ کی ایک بھاری خصوصیت یہ بھی ہے کہ حضرت اقدس ایدہ اللہ تعالیٰ نے یہاں پین میں اسلام او مسلمانوں کی گم گشتہ عظمت و شوکت کی بازیابی کے لئے ایک خاص کیم بھی تجویز فرمائی جس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب بھی سپین میں تشریف لے جاچکے ہیں۔حضور انور نے اپنے خطبہ جمعہ فرموده ۱۲ احسان ارجون ہمالیہ میں اس خاص سکیم کی طرف۔192۔اشارہ کرتے اور اس کے لئے خصوصی دعا کی تحریک کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :- سپین کے متعلق لیکن ایک اور کوشش کر رہا ہوں میں کو ظاہر کرنا اس وقت مناسب نہیں لیکن جس کے لئے دعا کرنا آج ہی ضروری ہے۔اس لئے بڑی کثرت سے یہ دعا کہ میں کہ جس مقصد کے لئے یں سپین گیا تھا اور جین کے پورا ہونے کے بظا ہر آثار پیدا ہو گئے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور رحم سے ہمارا کام کر دے کیونکہ ہم کمزور اور عاجز بندے ٢١٩٤٠ له الفضل ۱۵ر وفا / جولائی ۱۳۹۵ ہجرت مئی من 1 ص ها + TOLEDO الفضل