تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 62
بھاری بشارت عطا فرمائی۔اِس ایمان افروز واقعہ کی تفصیل امیر المومنین سید نا حضرت فاتح الدین خلیفة المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ کے مبارک الفاظ میں درج ذیل کی جاتی ہے۔فرمایا :- یکن بہت پریشان تھا۔سات سو سال تک وہاں مسلمانوں کی حکومت رہی ہے۔اُس وقت کے بعض غلط کار علماء کی سازشوں کے نتیجہ میں وہ حکومت مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گئی۔وہاں کوئی مسلمان نہیں رہا ہم نے نئے سرے سے تبلیغ شروع کی چنانچہ اس ملک کے چند باشندے احمدی مسلمان ہوئے۔وہاں جا کر شدید ذہنی تکلیف ہوئی ہر ناطہ جو بڑے لیے عرصہ تک ار الخالی رہا ، جہاں کئی لائبریریاں تھیں ، یونیورسٹی تھی، جس میں بڑے بڑے پادری اور شپ مسلمان اُستادوں کی شاگردی اختیار کرتے تھے مسلمان وہاں سے مٹا دیئے گئے۔غرض اسلام کی ساری شان و شرکت مادی بھی اور روحانی بھی اور اخلاقی بھی شادی گئی ہے۔طبیعت میں اس قدر پریشانی تھی کہ آپ اندازہ نہیں کر سکتے۔غرناطہ جاتے وقت میرے دل میں آیا کہ ایک وقت وہ تھا کہ یہاں کے درو دیوار سے درود کی آوازیں اٹھتی تھیں آج یہ لوگ گالیاں دے رہے ہیں طبیعت میں بڑا تکدر پیدا ہوا چنانچہ میں نے ارادہ کیا کہ میں حد تک کثرت سے درود پڑھ سکوں گا پڑھوں گا تا کہ کچھ تو کفارہ ہو جائے لیکن اللہ تعالٰی کی حکمت نے مجھے بتائے بغیر میری زبان کے الفاظ بدل دیئے گھنٹے دو گھنٹے کے بعد اچانک جب میں نے اپنے الفاظ پر غور کیا توئیں اس وقت درود نہیں پڑھ رہا تھا بلکہ اس کی جگہ لا الهَ إِلَّا انت اور لَا اِلهَ اِلَّا ھو پڑھ رہا تھا یعنی توحید کے کلمات میری زبان سے نکل رہے تھے۔تب میں نے سوچا کہ اصل تو توحید ہی ہے۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بشت بھی قیام توحید کے لئے تھی یکی نے فیصلہ تو درست کیا تھا یعنی یہ کہ تجھے کثرت سے دعائیں کرنی چاہئیں لیکن الفاظ خود منتخب کر لئے تھے۔درود سے یہ کلمہ کہ اللہ ایک ہے زیادہ متقدم ہے۔چنانچہ میں بڑا خوش ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی میری زبان کے رخ کو بدل دیا۔ہم غرناطہ میں دو راتیں رہے۔دوسری رات تو میری یہ حالت تھی کہ دس منٹ تک میری آنکھ لگ جاتی پھر گھل جاتی اور میں دُعا میں مشغول ہو جاتا۔ساری عرات یکیں سو نہیں سکا۔ساری رات اسی سوچ میں گزرگئی کہ ہمارے پاس مال نہیں یہ بڑی طاقتور قومیں ہیں۔