تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 52
۵۲ ماضی اور حال کے ان مختلف حقائق و واقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے آج سپین کو فٹ کا یہ حکم خاص طور پر اسلامی دنیا کے لئے حیران کن اور انتہائی تکلیف دہ ہے اور لیجا دل میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ سپین اور اسلامی دنیا کی دوستی اور تعلقات کیا صرت ایک کھوکھلی نمائش ہے اور کیا آج بھی سپین میں پرانے زمانہ کی طرح اسلام کے متعلق گفت موجود ہے۔اگر ان حقائق کو نظر انداز کر دیا جائے تو پھر بھی مذہب کی تبلیغ ہر ایک انسان کا بنیادی حقی ہے جس کو حکومت سپین نے اپنے حکم کے ذریعہ سے ختم کر نا چاہا ہے۔اس کے متعلق حکومت پاکستان کو خور و شکر کرنا چاہئیے اور اس کے جواب میں اسے سفارتی کاروائی اور حکومتی خط و کتابت کے علاوہ حکومت کو اپنے ملک میں دوسرے مذاہب کے مبلغین کے بارے میں بھی نئے سرے سے اصول وضع کرنے چاہئیں۔اس ضمن میں ہماری ہمسایہ حکومت بھارت کا رویہ بھی قابل غور ہے۔نہ معلوم اس سلسلہ میں ہماری حکومت نے بھی کچھ غور وفکر کیا ہے یا نہیں۔(ترجمہ) مشرقی پاکستان کے دوسرے مشہور اخبار اتفاق انے 19 جون شہر کے پرچے میں لکھا کہ : حکومت فرانکو نے حال ہی میں سپین میں صرف عیسائیت کو STATE RELIGION ہونے کا اعلان کیا ہے اور دوسرے مذہب کی تبلیغ پر پابندی عائد کر دی ہے اسی وجہ سے میڈرڈ میں مقیم مبالغ اسلام کو سپین سے پہلے جانے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔حکومت پین کا یہ فعل بین الا قوامی حقوق انسانیت پر ایک کاری ضرب ہے اور تمام عالم اسلام کے لئے خصوصا انتہائی طور پر تکلیف دہ ہے بین ایک زمانہ میں یورپ میں اسلامی تمدن کا مرکزہ تھا اور یہاں فلسفہ ، ادب ، علوم وفنون اور علیم صنعت و حرفت نے اس حد تک ترقی کر لی تھی کہ بعد میں یہی چیز یورپ کی نئی زندگی کا باعث بنی۔بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ در اصل سپین میں عربوں کے ذہنی ارتقاء نے ہی موجودہ ماڈرن یورپ کو جنم دیا۔پھر بین الاقوامی اصول کی رو سے بھی مذہبی آزادی کا حق ہر ایک کے لئے تسلیم له الفضل ام رو فار جولائی هر ماه ۶۱۹۵۶