تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 51 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 51

بغیر نہیں رہ سکتے اور اس معامہ میں دوسرے مذاہب کے مشنری اور تمام رواداری برتنے والے اور بین الا قوامی انسانی حقوق کی حفاظت کے خواہاں اصحاب بھی جماعت احمدیہ کی ہمنوائی کریں گے۔ISABELLA حکومت سپین کا قابل نفرت حکم ہمارے سامنے پرانے زمانہ کے ایسا بیلا اور فرڈی نینڈ FERDINAND کی حکومت کا نقشہ پیش کرتا ہے۔نیز ہمیں سپین میں عرب تمدن کے شہری زمانہ اور طارق و موسی بن نصیر کی بے نظیر بجرات بھی یاد دلاتا ہے۔در حقیقت معلوں نے ہی سپین کی تاریخ کو بنا یا تھا۔انہوں نے اپنے زمانہ میں عمارت سازی، انڈسٹری علم موسیقی ، ادب اور علوم و فنون کو ترقی دی تھی مگر وقتی طور پر عربوں کی یہ چلائی ہوئی شمعیں نا موافق حالات کی وجہ سے بجھادی گئیں مگرکچھ عرصہ بعد وہی یورپ کے ظلمت کدوں میں روشن ہوگئیں۔اسی کو تاریخ میں یورپ کی نئی زندگی (RENAISSENCE ) کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ایک وقت تھا کہ سپین سے عراب حکومت کو اور مسلمانوں کو به نوک شمشیر نکال دیا گیا مگر ایسا کرنے والوں نے اسلام کو سپین سے نکال کر بولوں سے زیادہ خود یورپ کے تمدن کو نقصان پہنچایا۔اسی وجہ سے مشہور عیسائی مؤرخ لین پول لکھتا ہے :- اسی طرح سے سپین والوں نے اس عرب ہنس کو قتل کر دیا جو روزانہ ایک سنہری انڈا دیا کرتا تھا۔اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ یورپ کا تمدن پانچ سو سال پیچھے پڑ گیا ہے مندرجہ بالا تمام حقائق سپین کے موجودہ در تب بھی تسلیم کرتے ہیں۔اور آج کل جنرل فرانکو سپین کی اس پرانی غلطی کا ازالہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہ حقیقت انکی مساعی سے آشکار ہو رہی ہے۔چنانچہ انہوں نے مسلم ممالک میں اپنے تمتری منتر بھجوا کراو را فرایہ میں اپنے مقبوضہ سلم علاقہ کی آزادی کا اعلان کر کے اسی بات کا واضح ثبوت فراہم کیا ہے آج کل سپین میں یہ مقولہ مشہور ہے کہ پیرائیز پہاڑ سے ہی افریقہ شروع ہو جاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ سپین اور افریقہ میں گہر احمد فی تعلق ہے۔