تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 37 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 37

۳۷ ہسپانیہ ایک ایسا ملک ہے جس نے اسلام کی ایک دفعہ پہلے بھی روشنی دیکھی تھی لیکن اُس وقت اس کی روشنی جنگ کے ذریعہ ظاہر ہوئی تھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ آخر میں مشتبہ ہو گئی۔آب وہ روشنی محبت اور صلح کے پیغام کے ذریعہ ظاہر ہوئی ہے اس وجہ سے وہ دائمی ہوگئی اور کبھی نہ مجھے گی اور کبھی وہاں سے نکالی نہ جائے گی یہ اہ اسلامی اصول کی فلاسفی کے کتاب اسلام کا اقتصادی نظام شائع ہوچکی تومولوی کرمانی حساب ظفر کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ ستیہ نا حضرت مسیح موعود و ہسپانوی ترجمہ کی اشاعت مهدی محمد علی الصلوة والسلام کی محرکة الآراء اور حقائق وصلات عليه سے پر اور قرآنی علوم سے لبریز کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی کا بھی ہسپانوی ترجمہ شائع کریں۔لیکن اس کتاب کی اشاعت ایک زبر دست محرکہ تھا۔سب سے دشوار اور حل طلب مسئلہ اجازت کا تھا محکم سینسر شپ کے انچارج پروفیسر BENEYTO BEN نے بہو " اسلام کا اقتصادی نظام کی اجازت میں ممد و معاون تھے اپنی ذاتی ذمہ داری پیر اس کتاب کی بھی اجازت دے دی اور ساتھ ہی تاکید کر دی کہ جلد طبع کر کے شائع کر دو تا کوئی روک نہ پڑ جائے۔چنانچہ مولوی صاحب نے مائه (۳ ) میں یہ کتاب بھی اُسی مطبع (AFRO Dicio AGLADO) کو دے دی جہاں پہلی کتاب طبع ہوئی تھی۔کتاب پانچ ہزار کی تعداد میں چھپ کر تیار ہو چکی تھی اور سرورق لگ رہا تھا کہ سپین حکومت کے وزیر تعلیم نے ایک خاص آرڈر کے ذریعہ مطبع والوں کو حکم جاری کر دیا کہ کتاب کی اشاعت روک دی جائے اور اس کی تقسیم شدہ کا پہیاں ضبط کر لی جائیں۔اس پر مولوی صاحب نے وزیر تعلیم سے ملنے کی کوشش کی ، خطوط پر خطوط لکھے ، تار دیے، مختلف شخصیتوں سے بار بار ملاقاتیں کیں۔چوھدری محمد ظفراللہ خاں صاحب نے بھی (جو اُن دنوں حکومت پاکستان کے وزیر خارجہ تھے ہسپانوی سفراء پر کتاب پر سے پابندی اُٹھا لینے کے لئے زور دیا لیکن وزارت تعلیم نے جواب تک دینا گوارا نہ کیا۔آئرستین کی وزارت نمارجہ نے ایک روز مولوی صاحب موصوف کو بلا کر کہا کہ اگر آپ این کتاب میں سے بعض عبارتیں حذف کرنے کو تیار ہوں تو ہم اسے شائع کرنے کی اجازت دے دیں گے۔مولوی ه افضل ۱۲ صلح استوری ها ۱۳۱۳ ص : ۶۱۹۵۲ ه نام SR SOSE ILEANOZ MARTIN (یہ صاحب اب فوت ہو چکے ہیں ) ؟